سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 197

196 19-9 " افسوس کہ اس واقعہ پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ بعض طبیعتیں پھر کچی پر مائل ہوگئیں اور نفاق کی وہ باتیں پھر دوہرائی جانے لگیں جن سے توبہ کر کے حضرت خلیفہ ایسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تجدید کی گئی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح پر متفرق اعتراضات کرنے کے بعد جماعت میں یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جارہا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول مراضی اللہ عنہ کو معزول کر کے انجمن کی بالا دستی قائم کی جانی چاہیے۔اگر چہ اس قسم کی باتوں کا تحریری ریکارڈ موجود نہیں لیکن حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ۱۶ار اکتوبر ششدہ کے عید الفطر کے خطبہ سے یہ بات بڑی وضاحت سے مترشح ہوتی ہے کہ منافقین اس حد تک بے باک ہو گئے تھے کہ انہوں نے عزل خلیفہ کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔آپ فرماتے ہیں :- خدا نے جس کام پر مجھے مقرر کیا ہے۔میں بڑے زور سے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اب میں اس کرتے کو ہرگز نہیں اتار سکتا۔اگر سارا جہان بھی اور تم بھی میرے مخالف ہو جاؤ تو میں تمہاری بالکل پرواہ نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔۔۔تم معاہدہ کا حق پورا کرو۔پھر دیکھو کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے ہو!۔۔۔مجھے ضرورتاً کچھ کہنا پڑا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تمہار ا ساتھ دوں گا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے معاہدہ پر قائم ہو۔ایسا نہ ہوکہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔اگر تم مجھ میں کوئی اعوجاج دیکھو تو اس کی استقامت کی دعا سے کوشش کرو گھر ہے گمان نہ کرو کہ تم مجھے بڈھے کو آیت یا حدیث یا مرزا صاحب کے کسی قول کے معنے سمجھا لو گے۔اگر میں گندہ ہوں تو یوں دعا مانگو کہ خدا مجھے دنیا سے اُٹھا لے۔پھر دیکھو کہ دعا کس پر الٹی پڑتی ہے۔تو یہ کرو اور دعا کرو اور پھر دُعا کرو میں فروری گویا نو ماہ سے اس دکھ میں مبتلا ہوں۔اب تم اس بڑھے کو تکلیف میں نہ ڈالو۔اس پر ہم کرد۔اگر میں نے کسی کا مال کھایا تو میں دس گنا دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔اگر میں نے کسی سے طمع کیا ہے تو میں لعنت کر کے کہوں گا کہ ایسا آدمی ضرور بول تھے ایک اور غلطی ہے، وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم