سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 137
تعلقات کے دائرے بچپن کے اس دور میں آپ کے تعلقات کے دائرے اپنے ہم جولیوں ، بہن بھائیوں، اساتذہ اور بزرگان ، ماں باپ امام اور امام الامام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالٰی کی ذات والا صفات تک ممتد تھے۔مخالفوں سے براہ راست سلوک کا کوئی خاص موقع اس لئے پیدا نہیں ہوا کہ آپ کے لئے اُن سے معاملہ کرنے کے مواقع ہی پیدا نہیں ہوئے۔اپنے سے کم عمر چھوٹے بچوں سے جو سلوک آپ فرماتے تھے۔اس کی ایک چھوٹی سی جھلک گھوڑی والے اس واقعہ میں گزر پیچی ہے جس میں گھوڑی کے دم کا بال مانگنے پر آپ نے کس طرح ان غریب بچوں کی دلجوئی فرمائی۔آپ کے بچپن کے ساتھیوں کے تاثرات بھی جا بجا روایات کی صورت میں کچھ دیئے جاچکے ہیں اور کچھ آئندہ دیتے جاتے رہیں گے۔اس لئے اس پر بھی کوئی الگ باب باندھنے کی ضرورت نہیں البتہ بہن بھائیوں سے آپ کا جو سلوک تھا اور اُن کے دلوں پر آپ کی کیا تصویر بن رہی تھی۔یہ مطالعہ بڑا دلچسپ ہے۔خوش قسمتی سے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدخلها العالی جو آپ کی چھوٹی بمیره اور ہمشیرگان میں بڑی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت بقید حیات ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی عمر میں اور صحت میں بہت برکت دے۔آپ نے صحت کی کمزوری کے باوجود تکلیف فرما کر اپنے تاثرات قلمبند فرماتے ہیں جن میں سے فی الحال آپ کی یادوں کا وہ حصہ پیش کیا جاتا ہے جو بچپن کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔آپ فرماتی ہیں :- "میں نے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کو ایک خواب بیان فرماتے سُنتا ہے۔بلکہ خود مجھے بھی مخاطب فرما کر سُنایا ہے۔دو چار بار فرمایا :- مجب تمہارے بڑے بھائی پیدا ہونے کو تھے تو ایام حمل میں میں نے خواب دیکھا کہ میری شادی مرزا نظام الدین سے ہو رہی ہے۔اس خواب کا میرے دل پر مرزا نظام الدین کے اللہ مخالف ہونے کی وجہ سے بہت برا اثر پڑا کہ مومن سے شادی میں نے کیوں لکھی ، میں تین روز تک مغموم رہی _ _