سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 135

۱۳۵ غور کا مقام ہے کہ بچوں کو ایسے موقعوں پر کھیل کود کے تماشے دیکھنے کا از حد شوق ہوا کرتا ہے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لڑکے اپنے فوائد کی پرواہ نہ کر کے اور نقصان اٹھا کر بھی دُور دُور سے ایسے نظارے دیکھنے کے واسطے جمع ہو جایا کرتے ہیں۔مگر میں بعض ایسے لڑکوں کو خوب جانتا ہوں جو مدرسہ تعلیم الاسلام ہی کے تعلیم یافتہ ہیں۔اپنی ٹیم کی کمزوری اور مقابل ٹیم کی طاقت اور مضبوطی کو دیکھ کر کھیل کے میدان سے الگ جاکر اور تنہائی کے گوشوں میں گریہ و بکا سے حضور انہی میں دعاوں میں مصروف تھے۔یہ بات یہ کوئی چھوٹی سی نہیں کہ نظر اندازہ کر دی جائے۔سوچنے والی طبیعت اس سے اندازہ کر سکتی ہے اور نتیجہ نکال سکتی ہے کہ ان بچوں نے اپنی کامیابی کی کلید کس بات کو یقین کر رکھا تھا اور اس سے ان کے دلی خیالات اور عقائد کا اچھی طرح سے اندازہ ہو سکتا ہے اور ان کے تعلیم و تربیت کے اعلیٰ۔اصول کا پتہ لگتا ہے۔۔۔جوں توں کر کے ہاف ٹائم گزرا۔پانچ منٹ آرام یا یوں کہئے کہ دُعاؤں کے لئے ایک موقع ہاتھ آ گیا۔اور وقت گزرنے پر پھر پیج شروع ہوگیا غرض پھر پورے جوش و خروش سے اپنی اپنی کامیابی کے واسطے سر توڑ کوشش کرنے لگے۔خدا کی شان کوئی پندرہ میں منٹ کی کھیل کے بعد تعلیم الاسلام سکول قادیان فٹ بال ٹیم نے ایک گول خالصہ کا لحبیب پر کر دیا۔جس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں کیا گیا اور سب نے بے چون چرا اس کو تسلیم کر لیا۔اللہ اکبر ! گوں کا ہونا تھا کہ سب لڑکے میدان مقابلہ میں جدھر جس کا منہ تھا اور جہاں جو کوئی تھا، وہیں اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں گھر گئے۔تمام احمدی قوم کے افراد جو اس وقت وہاں موجود تھے، خدا کی اس ذرہ نوازی پر شکریہ کرتے ہوئے سجدہ میں گرگئے جن کی دیکھا دیکھی عوام اہل اسلام بھی سجدے میں گر گئے۔عجیب ایک نظارہ تھا۔اور عجیب ہی سماں حاضرین پر ایک خاص اللہ ہو ا بجائے اس کے کہ گول کرنے کی خوشی میں چیریز