سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 106
1-4 نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا۔آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ بھی کبھی مدر سے چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر ہنس کر فرمانے لگے اس سے ہم نے آٹے دال کی دکان تھوڑی کھلوائی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔جاب اسے آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔آخر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کو نسا حساب سیکھا تھا۔اگر یہ مدرسہ میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہیئے۔یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے ہیں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسے میں جانا ہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی بغرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی اور میں در حقیقت مجبور بھی تھا۔کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی۔ریڈ آئیوڈائڈ آف مرکزی (Red Iodide of Mercury) کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔اسی طرح گلے پر بھی اس کی مالش کی جاتی تھی کیونکہ مجھے خنازیر کی بھی شکایت تھی۔غرض آنکھوں میں شکرے جگر کی خرابی، عظیم طحال کی شکایت اور پھر اس کے ساتھ بخار کا شروع ہو جانا جو چھ چھ مہینے تک نہ اترتا اور میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا فیصلہ کر دیا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہیے، پڑھ لے۔اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہو گا۔ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب مرضی اللہ عنہ نے میرا اُردو کا امتحان لیا۔میں اب بھی بہت بدخط ہوں مگر اس زمانہ میں تو میرا اتنا بدخط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ میں نے کیا لکھا۔انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگائیں میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا۔