منتخب احادیث — Page 30
انفاق فی سبیل اللہ ٣٦- عَنْ مُعَادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذلِكَ فَأَعْلِمُهُمُ أَنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذلِكَ فَأَعْلِمُهُمْ أَنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ - وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ۔(بخاری کتاب الزكوة باب لا تؤخذ كرائم اموال الناس في الصدقة) حضرت معاذ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ کا حاکم بناتے ہوئے یہ ہدایات دیں کہ تو اہلِ کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہا ہے ان کو سب سے پہلے کلمہ شہادت ( یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ) کی طرف دعوت دینا اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو امیروں سے لے کر غرباء کو دیا جاتا ہے اور اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو پھر ان کے بہترین اموال سے ہاتھ روکے رکھنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظلوم اور خُدا کے درمیان کوئی 30