منتخب احادیث

Page 45 of 88

منتخب احادیث — Page 45

عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدُتَ ذُلِكَ عِنْدِي - يَا ابْنَ آدَمَ ! اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، قَالَ : اِسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمُ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذُلِكَ عِنْدِي۔(مسلم کتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی تھی۔اس پر وہ جواب دیگا۔اے رب العالمین۔تو کیسے بیمار ہو سکتا ہے اور میں تیری عیادت کس طرح کرتا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔کیا تجھے معلوم نہیں ہوا تھا کہ میرا افلاں بندہ بیمار ہے اور تو اس کی عیادت کے لیے نہیں گیا تھا کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔اور اس کی عیادت میری عیادت ہوتی۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھاناما نگا مگر تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔وہ کہے گا اے میرے رب تو تو رب العالمین ہے کھانے سے بے نیاز ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے یہ لم نہیں کہ میرے بندے نے تجھ سے کھاناما نگا تھا اور تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو گو یا تو نے مجھے یہ کھانا کھلایا ہوتا۔اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔وہ کہے گا۔اے میرے رب تو رب العالمین ہے۔پیاس سے بے نیاز ہے۔میں تجھے کیسے پانی پلاتا اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا۔تو نے اسے پانی نہیں پلایا تھا۔کیا تجھے یہ مجھ نہ آئی کہ اگر تو اسے پانی پلا تا توگو یا تو نے یہ مجھے پانی پلایا ہوتا اور اس کا ثواب میں تجھے دیتا۔45