سیکھوانی برادران — Page 19
35 34 تھے ) ہمارے گھر کو دیکھ کر حضرت اماں جان نے فرمایا کہ آپکا گھر تو ماشاء اللہ بہت صاف با برکت وجود ستھرا ہے بعض گھروں میں تو میں بہت گند دیکھتی ہوں اور بعض نے تو گھر ہی میں بھینسیں قادیان میں جب سکونت اختیار کی تو ابتداء میں گھر اتنابڑا نہ تھا اگر چہ ساتھ خالی جگہ وغیرہ بھی باندھی ہوتی ہیں۔عرض کیا گیا کہ آج تو میں ثابت موٹھ (ایک قسم کا غلہ جس کے کافی تھی۔آپا صفیہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ”میرے ابا جان مولا نا قمر الدین صاحب سے تو دانے کا رنگ سرخ اور جسامت دال مونگ جتنی ہوتی ہے ) کی کھچڑی بنا رہی تھی لیکن آپ کیا کھانا کافی احباب ملنے آتے تھے اور مجلس لگا کرتی تھی لیکن میرے دادا میاں خیر الدین صاحب پسند فرمائیں گی ؟ تو حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ہم بھی یہی کھائیں گے۔چنانچہ آپ ان مجلسوں سے ذرا دور ہی رہتے تھے اور سونے کیلئے ساتھ والے کھلے میدان میں چار پائی نے بڑے شوق سے کھچڑی کھائی بلکہ بعد میں کبھی کبھار محبت اور بے تکلفی سے مطالبہ کر کے لے جایا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ میں اتنی برکت ڈالدی کہ ہمیں یہ ساری جگہ مل پکوا کر منگوایا بھی کرتی تھیں۔گئی اور اس جگہ بڑا گھر بھی بنانے کی توفیق ملی۔جب حضرت اماں جان بیاہ کر آئی تھیں تو ہم آپکو دیکھنے گئی تھیں آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ تم اسی طرح میرے دادا مجھے حساب پڑھایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ میں نے حساب کا میری بہن بن جاؤ۔چنانچہ اسی محبت اور پیار کی وجہ سے آپ ہمیشہ شفقت فرمایا کرتی تھیں۔“ جواب لکھا تو انہوں نے فرمایا کہ جواب غلط ہے۔دو تین مرتبہ میں نے چیک کیا تو جواب وفات وہی صحیح تھا جو میں نے لکھا تھا لیکن ہر مرتبہ دادا جان نے یہی فرمایا کہ غلط ہے۔چنانچہ میں روپڑی۔اس پر میرے ابا جان نے دیکھا تو بتایا کہ جواب تو صحیح ہے۔تب دادا جان نے حضرت میاں خیر الدین صاحب بعد میں جہلم میں آبادہو گئے تھے۔آپ کی وفات کہا کہ دراصل میں نے کتاب میں ہی دیکھا تھا، اس میں غلط جواب چھپا ہوا ہے۔چونکہ یہیں ریل کے ڈبہ کے ٹکرانے کی وجہ سے ہوئی۔آپ شدید زخمی ہو گئے تھے۔آپ کے میری دلآزاری ہوئی تھی اسلئے فوراً دادا جان نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور مجھے نقدی انعام پوتے خواجہ رشید الدین قمر صاحب (ابن مولانا قمر الدین صاحب ) فرماتے ہیں کہ ہماری میں دی تا کہ جو تکلیف ان کی وجہ سے مجھے ہوئی ہے اسکا ازالہ ہو جائے۔“ دادی اور دیگر عزیز رور ہے تھے لیکن آپ ان سب کو صبر کرنے کی تلقین فرماتے رہے کہ اللہ حضرت اماں جان کی شفقت کی رضا پر ہمیشہ راضی رہنا چاہیے۔آخر آپ 17 / مارچ 1949ء کو 80 سال کی عمر میں اپنے مولائے حقیقی کے حضور آپا صفیہ صاحبہ کی دادی جان بتایا کرتی تھیں کہ ایک مرتبہ حضرت اماں جان (اہلیہ حاضر ہو گئے۔آپ بھی موصی تھے اور آپکی وصیت کا نمبر 96 تھا۔آپ کو جہلم میں امانتاً دفن محترمہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام) ہمارے گھر سیکھواں تشریف لائیں۔آپکے ہمراہ کیا گیا اور پھر جون 1960ء میں آپ کا جسد خا کی ربوہ لا کر بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جو اس وقت چھوٹی عمر آپ کی نماز جنازہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھائی جس میں اہل ربوہ کی کثیر تعداد کے تھے بھی تھے۔(اُس وقت تینوں ایک ہی بڑے گھر میں رہا کرتے نے شرکت کی۔