سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 15 of 20

سیکھوانی برادران — Page 15

27 26 اسوقت صرف مولوی قمر الدین صاحب ( آپ کے چچا میاں خیرالدین صاحب کے انگلستان رکھا گیا۔آپکے دونوں بچے جوان ہو چکے تھے اور اپنی والدہ سے پوچھا کرتے تھے بیٹے۔ناقل ) اور میں رہ گئے تھے اور دونوں ہی سکول چھوڑنے کا ارادہ کیا کرتے تھے۔کہ انکے ابا زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ اپنے دادا سے بھی یہی پوچھتے ہو نگے۔اُدھر دادا ضعیف موسم گرما کی ڈیڑھ ماہ کی رخصتوں کے بعد جب مدرسہ جانے کا دن آیا تو میں نے انکار ہوتے جارہے تھے لیکن آپ نے کبھی بھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں یہ یا کیونکہ صبح چار پانچ بجے کے قریب جبکہ ابھی اندھیرا ہی ہوتا تھا ہمیں گاؤں سے چلنا درخواست نہیں کی کہ میرے بیٹے کو اب واپس بلا دیا جائے۔اسی حالت میں 8 رمئی پڑتا تھا تا سکول میں وقت پر حاضر ہو جائیں۔تب میرے والد صاحب نے مجھے مارا 1941ء کو قریباً 80 سال کی عمر میں آپ وفات پاگئے۔انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور تقریباً ایک میل تک ساتھ آئے۔میں ہچکیاں لیتا روتا ہوا ان کے ساتھ چلا گیا۔اس آپ موصی تھے اور وصیت نمبر 95 تھا۔آپ کی نماز جنازہ حضرت مولوی شیر علی کے بعد ہم کچھ مدت کیلئے اپنے رشتہ داروں کے گھر قادیان رہنے لگے۔پھر اس کے بعد صاحب نے ایک بہت بڑے مجمع سمیت پڑھائی اور آپ کو مقبرہ بہشتی قادیان کے قطعہ سکول چھوڑنے کا خیال نہیں آیا۔وہ دن تھا۔اگر اس دن والد صاحب سختی نہ کرتے تو خاص ( رفقاء) میں دفن کیا گیا۔آپ کی قبر کے کتبہ پر درج ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں: نامعلوم میری زندگی کا مستقبل کیا ہوتا۔ان کی سختی کو یا دکر کے میں ہمیشہ ان کے لئے دعا 66 کرتا ہوں۔“ وفات (روز نامہ الفضل قادیان۔8 جولائی 1941ء) عرصہ قریباً6 سال کے بعد حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کامیاب و کامران دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیکر بلاد عر بیہ سے دسمبر 1931ء کے آخر پر واپس قادیان پہنچے تو اپنے بوڑھے والد کا آپ ہی سہارا تھے کیونکہ آپکے اکلوتے بھائی تو فوت ہو چکے تھے۔حلیہ مبارک لیکن چند سالوں کے بعد ہی 1936ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حضرت شمس مزار پاک دل مولوی امام الدین صاحب والد ماجد مولوی جلال الدین صاحب مشمس مهاجر قادیان عمر ۸۰ سال وفات ۱۴-۵-۸ وصیت نمبر ۵۹ ہماری بڑی ہمشیرہ جمیلہ نسیم ملک صاحبہ کے بیان کے مطابق ” آپ اصل کشمیریوں کی صاحب کو انگلستان روانہ فرما دیا۔اس وقت آپ کے دو بچے چھوٹی عمر کے تھے۔بڑا بیٹا طرح اونچے چوڑے تھے اور نقش نہایت با اثر تھے۔داڑھی درمیانی تھی۔رنگ گندمی لیکن صلاح الدین دو تین سال کا تھا اور بیٹی جمیلہ چند ماہ کی تھی۔اسکے بعد جنگ عظیم شروع ہوگئی سفید رنگ کی طرف مائل تھا۔پگڑی باندھا کرتے تھے لیکن گلے کے بغیر نیز دیسی جوتے اور جماعت کے حالات ایسے تھے کہ حضرت شمس صاحب کو 10 سال سے زائد عرصہ پہنتے تھے۔