سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 61 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 61

مذکورہ بالا تحریر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ میلی لی ایم کے مبارک زمانہ شباب پر مختصر الفاظ میں نہایت جامع تبصرہ فرمایا ہے۔بظاہر نظر تمام حالات ناموافق تھے۔غربت، یتیمی، امی محض، کوئی حرفہ یا فن با قاعدہ سیکھنے کا موقع نہ ملا۔سو خاندان میں کسی ہم عمر لڑکی سے شادی بھی بظاہر ناممکن تھی۔لیکن آپ کی ذات میں وہ جو ہر مخفی تھے کہ جو تجربہ کے محتاج نہ تھے اور نہ ہی کسی استاد سے حرفہ و پیشہ سیکھنے سے مل سکتے تھے۔آپ کو امانت و دیانت اور ہمدردی مخلوق سے پر وہ قلب مظہر عطا ہوا تھا جس نے عظیم المرتبت رسالت کا متحمل ہونا تھا۔خدا نے ایسے نامساعد حالات میں بھی آپ صلی علیکم کی حیرت انگیز خبر گیری فرمائی۔جسکا ذکر آپ نے اپنی تحریرات الله سة میں یہ الفاظ کہ بظاہر نظر آتا تھا فرما کر یہ نکتہ بیان فرما دیا ہے کہ اوائل جوانی میں آپ صلی علیہ نظم بظاہر ایک غریب اور ناتجربہ کار نظر آتے تھے لیکن بفضلہ تعالیٰ زندگی کے کسی حصہ میں بھی خدا نے آپ مالی کیم کو بے یار ومدد گارنہ چھوڑا۔اور آپ پر ایک فضل یہ بھی تھا کہ فہم و فراست کے ساتھ مشاہدہ فطرت سے بہت کچھ سیکھ لیتے تھے۔بچپن اور نوجوانی کے پیش آمدہ حالات سے آپ صلی علیکم کے قلب مطہر نے گہرے اور دقیق در دقیق نتائج اخذ کئے جنہیں صدق و امانت کی کسوٹی پر رکھ کر زندگی کا لائحہ عمل تیار ہوا۔بچپن اور جوانی میں آپ صلی علیہ یکم جن تجربات میں سے گزرے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عرب کے عام دستور کے مطابق بچپن میں چند قیراط کے عوض بکریاں چرائیں۔اس تجربہ سے آپ نے دیگر فوائد کے علاوہ معیشت کے ابتدائی اصول سیکھے۔آپ صلی میں ظلم کا اپنے چا ابو طالب کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر بچپن میں شام کی طرف جانا ثابت ہے۔(18) اپنے ماحول میں چچاؤں اور دیگر رشتہ داروں کو مکہ میں تجارت میں مشغول پا کر تجارت کی سمجھ بوجھ لا شعوری طور پر حاصل ہوئی ہو گی۔اور مکہ تو تھا ہی ایک تجارتی مرکز۔آپ صلی الی یکم نے ہیں یا اکیس برس کی عمر میں ایک یادو تجارتی سفر کئے تھے۔(19) اور عمر کے اسی حصہ میں حلف الفضول میں شرکت بھی فرمائی۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے اس حصہ میں عملی زندگی میں قدم رکھنے شروع فرمائے۔اور پچیس سال کی عمر تک اگر چہ سمجھ بوجھ تو حاصل ہو چکی تھی لیکن بظاہر بے تجربہ و بے مال و متاع اس لئے تھے کہ ذاتی تجارت کا موقعہ حاصل نہ ہوا تھا۔بلکہ ایک اجیر کی حیثیت سے ہی تجارت میں دخل تھا۔اور یہی وجہ ہے کہ اس عمر تک خاندان کی کوئی لڑکی آپ صلی علیم سے بیاہی نہ گئی۔61