سیرة النبی ﷺ — Page 200
صحابہ کی غلطی عمدانہ تھی: بعض صحابہ جن میں حضرت عمررؓ بھی شامل تھے حضرت عیسیٰ کی حیات کے قائل تھے لیکن انکی یہ غلطی کس قسم کی تھی اور کیوں تھی آپ نے اس پر بھی تبصرہ فرما کر انکی بیگناہی کو ثابت کیا ہے۔صحابہ پر جو امکانی اعتراض تھا اس کا بھی آپ نے تدارک فرما دیا۔جیسا کہ فرمایا: لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُس وقت تک اس آیت کا علم نہیں تھا اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہو و نسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور اُن کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں۔لیکن حضرت ابو بکر نے تمام آیت پڑھ کر اور أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ سناکر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حتف الف سے مرنا یعنی طبعی موت۔(۲) مارے جانا۔تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اِس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گذشتہ نبی سب مر گئے ہیں“ اجماع صحابہ پر اعتراض کا جواب: (تحفه غزنویہ ، روحانی خزائن جلد 15 حاشیہ صفحہ 582) وصال نبی صلی ال نیم کے موقع پر صحابہ کا جو پہلا اور واحد اجماع ہو اہے اس پر کسی نے یہ اعتراض کیا کہ تمام صحابہ موجود نہیں تھے اس لئے اس کو اجماع صحابہ نہیں کہہ سکتے۔اس اعتراض کا جواب آپ نے حدیث و تاریخ میں درج واقعات سے دیا ہے: ”اے عزیز بخاری میں تو اس جگہ کلھم کا لفظ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ کل صحابہ اُس وقت موجود تھے اور لشکر اسامہ جو ہیں ہزار ۲۰۰۰۰ آدمی تھا اس مصیبت عظمی واقعہ خیر الرسل سے رُک گیا تھا اور وہ ایسا کون بے نصیب اور بد بخت تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنی اور فی الفور حاضر نہ ہوا۔بھلا کسی کا نام تو لو۔ماسوا اس کے اگر فرض بھی کر لیں کہ بعض صحابہ غیر حاضر تھے تو آخر مہینہ دو مہینہ چھ مہینہ کے بعد ضرور آئے ہوں گے پس اگر انہوں نے کوئی مخالفت ظاہر کی تھی اور آیت قد خلت کے اور معنے کئے تھے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو پس یہی 200