سیرة النبی ﷺ — Page 136
وجہ سے ہے نہ کہ ہر ایک پہلو سے۔اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت ملی الم نہ صرف یونس سے بلکہ ہر ایک نبی سے افضل ہیں“۔سراقہ کا تعاقب: (تحفہ گولڑ یہ۔روحانی خزائن ، جلد 17 ، صفحہ 338) آنحضور صلی می کنم غار ثور میں تین رات قیام کرنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔اس عرصہ میں قریش کے سر داروں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ آنحضور صلی علی کم کو پکڑنے والے کو سو اونٹ بطور انعام دئے جائیں گے۔اس انعام کے لالچ میں ایک شخص سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کیا یہ کلمہ کا تعاقب کیا۔وہ آپ تک پہنچ بھی گیا لیکن آپ کو کوئی نقصان پہنچانے کی بجائے خود اسے آنحضور صلی الم سے معافی کا خواستگار ہونا پڑا۔اس واقعہ کو بھی حضور نے اپنی تحریرات میں بیان فرمایا ہے بلکہ یہ ان واقعات میں سے ایک ہے جنہیں آپ نے من جانب اللہ خاص تصرفات میں شمار فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا: از انجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بددعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں سم زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑا اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگ کر اور عفو تقصیر کراکر واپس لوٹ آیا“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 حاشیہ صفحہ 66) پھر ایک نے ان میں ایسے وقت میں خبر پا کر تعاقب کیا جب آنحضرت صلی ایلام مدینہ کے راہ میں جا رہے تھے۔مگر وہ اور اس کا گھوڑا ایسے طور سے زمین پر گرے کہ وہ سمجھ گیا کہ نبی صلی ام حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 10 حاشیہ) یہ واقعہ مر الظہر ان کے مقام پر ہوا۔اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سراقہ کی معافی کے بعد آنحضور صلی اللہ ہم نے اس کو مخاطب ہو کر فرمایا كَيفَ بِک إِذَا لبست شواری کسری و منطقته که سراقہ تیرا اس وقت کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے۔پھر جب حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں کسری کے کنگن آئے تو حضرت عمرؓ نے سراقہ کو بلوا کر اسکو وہ کنگن پہنائے۔اور اس وقت سراقہ ایمان میں اس قدر ترقی کر چکے تھے کہ اسلام میں 136