سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 102 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 102

پوچھا۔اے عمر ا تجھ کو کس چیز نے رُلایا؟ عمر نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خدا تعالیٰ کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔آنحضرت علی الم نے فرمایا۔اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض ؟ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اُونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں ستالے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔جس قدر نبی اور رسول ہوئے سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا“ (ملفوظات[2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 51) سفر طائف: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہمارے بادی کامل کو یہ دونوں باتیں دیکھنی پڑیں۔ایک وقت تو طائف میں پتھر برسائے گئے۔ایک کثیر جماعت نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف دی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقلال میں فرق نہ آیا۔جب قوم نے دیکھا کہ مصائب و شدائد سے ان پر کوئی اثر نہ پڑا، تو انہوں نے جمع ہو کر بادشاہت کا وعدہ دیا۔اپنا امیر بنانا چاہا۔ہر ایک قسم کے سامان آسائش مہیا کر دینے کا وعدہ کیا۔حتی کہ عمدہ سے عمدہ بی بی بھی۔بدیں شرط کہ حضرت بتوں کی مذمت چھوڑ دیں۔لیکن جیسے کہ طائف کی مصیبت کے وقت ویسی ہی اس وعدہ بادشاہت کے وقت حضرت نے کچھ پروانہ کی اور پتھر کھانے کو ترجیح دی۔سو جب تک خاص لذت نہ ہو، تو کیا ضرورت تھی کہ آرام چھوڑ کر دکھوں میں پڑتے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 11) مومنوں پر ابتلاء آتے ہیں۔رسول اللہ صلی ا یکم تیرہ برس تک کیسی تکلیفیں اُٹھاتے رہے۔طائف میں گئے تو پتھر پڑے اس وقت جب آپ کے جسم سے خون جاری تھا آپ نے کیسا صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا۔اور کیا پاک الفاظ فرمائے کہ یا اللہ میں یہ سب تکلیفیں اس وقت تک اُٹھا تار ہوں گا جب تک تو راضی ہو“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 284) 102