سیرة النبی ﷺ — Page 79
کی تبلیغ سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا انکے نام بھی کتب میں مذکور ہیں جو یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن العوام ، حضرت عبد الرحمان بن عوف، سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبید اللہ۔(9) ان کے علاوہ جو سابقین فی الاسلام ہیں ان میں حضرت بلال، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت یا سٹر اور ان کا خاندان۔الغرض اکثر ان میں وہ لوگ تھے جو غریب ، عاجز بوڑھے ، غلام اور بچے تھے جو مخالفین کے مقابلہ میں کچھ طاقت نہ رکھتے تھے۔اس کا ثبوت وہ مظالم ہیں جو ان پر ڈھائے گئے۔نیز ابوسفیان کا وہ اقرار جو اس نے ہر قل قیصر روم کے دربار میں کیا تھا جب قیصر نے اس سے پوچھا کہ محمد پر ایمان لانے والے امیر لوگ ہیں یا غریب تو ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ غریب لوگ اس پر زیادہ ایمان لائے ہیں۔) حضرت ابو بکر صدیق کا قبول اسلام: (10) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ابو بکر صدیق کے قبولِ اسلام کے متعلق بیان فرماتے ہیں ”دیکھو مکہ معظمہ میں جب آنحضور صل لل علم کا ظہور ہوا تو ابو جہل بھی مکہ میں ہی تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مکہ ہی کے تھے لیکن ابو بکر کی فطرت کو سچائی کے قبول کرنے کے ساتھ کچھ ایسی مناسبت تھی کہ ابھی آپ شہر میں بھی داخل نہیں ہوئے تھے راستہ ہی میں جب ایک شخص سے پوچھا کہ کوئی نئی خبر سناؤ اور اس نے کہا کہ آنحضرت ملا لی ہم نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو اسی جگہ ایمان لے آئے اور کوئی معجزہ اور نشان نہیں مانگا اگر چہ بعد میں بے انتہا معجزات آپ نے دیکھے اور خود ایک آیت ٹھہرے لیکن ابو جہل نے باوجودیکہ ہزاروں ہزار نشان دیکھے لیکن وہ مخالفت اور انکار سے باز نہ آیا اور تکذیب ہی کر تا رہا “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 7) حضرت صدیق اکبر ابو بکر رضی اللہ عنہ جو آنحضرت علی ای کم پر ایمان لائے تو انہوں نے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا اور جب پوچھا گیا کہ کیوں ایمان لائے تو بیان کیا کہ میرے پر تو محمد علی ای کم کا امین ہونا ثابت ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی انسان کی نسبت بھی جھوٹ کو استعمال نہیں کیا چہ جائیکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باند ھیں۔ایسا ہی اپنے اپنے مذاق پر ہر یک صحابی ایک ایک اخلاقی یا تعلیمی فضیلت آنحضرت ملا لی کم کی دیکھ کر اور اپنی نظر دقیق سے اس کو وجہ صداقت ٹھہرا کر ایمان لائے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی نشان نہیں مانگا تھا اور کا ذب اور صادق میں فرق کرنے کے لئے انکی نگاہوں 79