سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 57 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 57

کتب سیرت و تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی علی کم اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض کچرایا کرتے تھے۔جیسا کہ ابن سعد کی روایت ہے عن ابي هريرة قالَ رسولُ الله ما بَعَثَ اللَّه عَزَّ وَ جَلَّ نبياً إِلَّا رَعَى الغَنَمَ قال له اصحابه و أنتَ يا رَسُولَ اللهِ قال نعم و انا رعيتها لأهل مكة بالقيراط (14) یعنی ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریوں کی نگہبانی نہ کی۔صحابہ نے پوچھا یار سول اللہ کیا آپ نے بھی۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے اہل مکہ کی بکریوں کی نگہبانی چند قیراط کے عوض کی تھی۔روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بنو سعد کی بکریوں کی نگہبانی بھی کی اور اہل مکہ کی بکریوں کی نگہبانی بھی کی (15) اسی طرح ایک روایت میں قیراط کی بجائے اجیاد کے الفاظ بھی ہیں وانا ہو۔ارعى غنم اهلی با جيادٍ۔یعنی میں چند اجیاد کے عوض اپنے خاندان کی بکریوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔(16) حضور نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس عرصہ میں آپ صلی علیم کی بجز ادنی قسم کے اناجوں اور بکریوں کے دودھ کے اور کوئی غذا نہ تھی (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 حاشیہ صفحہ 112-113) اسکے ثبوت میں بھی روایات موجود ہیں۔یہ واقعات آپ مالا ظلم کی زندگی کے اس حصہ سے تعلق رکھتے ہیں جس میں آپ بی بی حلیمہ سعدیہ کے ہاں بچپن میں رہے۔اور یہ عرصہ چار سال کا ہے۔بنو سعد ایک خالص دیہاتی قبیلہ تھا اور ایسے قبائل کی غذا سادہ ہی ہوا کرتی تھی۔اور مکہ کے لوگوں کی بھی عام غذا بکریوں کا دودھ اور سبزیاں ہی ہوا کرتی تھی۔اس عرصہ میں اعلیٰ قسم کی غذا کھانے کا کم ہی موقعہ ملا ہو گا۔دوسرے بچوں کی طرح آپ کا گزر بسر بھی جنگلی پھلوں، سبزیوں اور بکری کے دودھ پر تھا۔ان حالات کی تصویر ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضور صلی ا م ( صحابہ کے ساتھ ) ارک نامی بوٹی کے پاس سے گزرے تو آنحضور صلی ایم نے فرمایا کہ اسکے سیاہ پھل کھایا کرو میں بھی یہی چنا کرتا تھا جب میں گلہ بانی کرتا تھا۔اُن (صحابہ) نے کہا اے اللہ کے رسول صلی للی کم کیا آپ نے بھی گلہ بانی کی تھی۔آپ صلی الیم نے فرمایا ہاں۔اور کوئی نبی ایسا نہیں جس نے گلہ بانی نہ کی ہو (17) ارک جس کی جمع اراک ہے ایک جھاڑی نما پودے پر اگنے والا ایک پھل ہے جو بالعموم اونٹوں اور بکریوں کی خوراک ہے لیکن انسان بھی اسے کھا لیتے ہیں۔اور اس کا اردو تر جمہ پیلو کیا جاتا ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مَا مِن نَبِي إِلَّا قَد رَعَاهَا یعنی ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں تو قرآن اور حدیث اور بائیبل اور تاریخ سے بھی اس کے اشارے ملتے ہیں مثلاً حضرت موسی کا بکریوں کی نگہبانی کرنے کا ثبوت سورۃ 57