سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 46 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 46

سب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل برنباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپا رکھوں۔تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہو کر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیا جس کے پڑھنے سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔دیکھو صفحہ دہم ۰ اسطر چهارم ۴ ترجمہ قرآن شریف جارج سیل صاحب۔پھر صفحہ ۵۸ سطر ۲۴۔اسی ترجمہ میں جارج سیل صاحب اپنے عیسائی تعصب کے جوش سے یہ بے دلیل اور مہمل رائے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط (جس کا ترجمہ محمد ہے) مسلمانوں نے داخل کر دیا ہو گا مگر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہیں۔یعنی مسلمانوں نے اس میں صرف اس قدر جعل کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیش گوئی بتصریح نام اس میں لکھ دی ہے اور جعل یہ اس لئے ٹھہرا کہ یہ پیشگوئی صریح صریح اس میں موجود ہے جس کا ماننا حضرات عیسائیوں کو کسی طور سے منظور ہی نہیں اور لطف یہ کہ آپ ہی اقراری ہیں کہ اس پیش گوئی کو پڑھ کر بڑے بڑے نیک بخت اور فاضل راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں فتند بر۔منہ“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2، حاشیہ صفحہ 287-290) مصداق اسم محمد صلى الله : سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد تحریرات میں آپ صلی للی کم کا نام مبارک محمد و احمد رکھے جانے میں پنہاں حکمتوں کو نہایت لطیف پہلوؤں سے بیان فرمایا ہے۔ذیل میں آپ کی چند تحریرات درج کی جاتی ہیں۔سراپا محمد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا؟ تو انسان وجد میں آکر اللهم صلی علے محمد کہہ اٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں۔کہ یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔قرآن شریف اور دنیا 46