سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 243 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 243

آپ نے ایک جگہ فرمایا: اور بعض کتب میں زبان پارسی میں یہ حدیث لکھی ہے ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چه کنم “ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 حاشیہ صفحہ 196) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “اگر میں خاک کے اس پتلے (انسان) کو نہ بخشوں تو اور کیا کروں۔اسلامی لٹریچر میں یہ فارسی حدیث قدرے مختلف الفاظ میں لیکن مضمون کے لحاظ سے بعینہ ملتی ہے۔مثلاً 1۔حافظ عبد العزیز فریباری حنفی اپنی کتاب ” کو ثر النبی فی علم اصول الحدیث ” کے صفحہ 555 میں ایک فارسی حدیث درج کی ہے چکنم یہ ایس گناہ گاران کہ نیا مر زم ” لکھا ہے۔اسی طرح جمال الدین حسین انجوی نے بھی ایک حدیث بیان کی ہے سأل رسول الله عن ميكائيل هل يقول الله شيئا بفارسي قال نعم يقول الله تعالیٰ جل جلالہ چون کنم با این مشت ستمگار جزاینکه بیا مرزم (فرهنگ جهانگیری جلد دوم صفحه 10) اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضور نے جس فارسی حدیث کا ذکر فرمایا ہے اس مضمون کی احادیث اسلامی لٹریچر میں موجو د ہیں۔اور اصولی طور پر فارسی زبان میں اس مضمون کی احادیث کا موجو د ہونا ثابت ہے۔پاکیزہ مزاح: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہر پہلو میں اپنار ہنما قرآن اور اسوہ رسول صلی الی یکم کو ہی رکھا ہے اسکی ایک مثال مندرجہ ذیل ارشاد بھی ہے جس میں آپ نے اسوہ رسول صلی علی یکم سے پاکیزہ مزاح کی چند مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک روز کسی بیار بچہ نے کسی سے کہانی کی فرمائش کی تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو کہانی سنانا گناہ سمجھتے ہیں۔اس کے متعلق آپ نے فرمایا: دوگناہ نہیں۔کیونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھی کوئی مذاق کی بات فرمایا کرتے تھے اور بچوں کو بہلانے کے لئے اس کو روا سمجھتے تھے۔جیسا کہ ایک بڑھیا عورت نے آپ 243