سیرة النبی ﷺ — Page 227
لمبے ہاتھوں والی سے مراد: حضور نے فرمایا۔انبیاء کی کلام میں تمثیل کے ساتھ یا استعارہ کے طور پر بہت باتیں ہوتی ہیں دیکھو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات امہات المومنین کو فرمایا تھا کہ تم میں سے پہلے اس کی وفات ہو گی جس کے ہاتھ لمبے ہونگے اور ان تمام اہل بیت کو اس حدیث کے سُننے سے یہی یقین ہو گیا تھا کہ در حقیقت لمبے ہاتھوں سے اُن کا لمبا ہونا ہی مراد ہے یہاں تک کہ آنجناب کی ان پاک دامن بیویوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کئے لیکن جب سب سے پہلے زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی تب انہیں سمجھ آیا کہ لمبے ہاتھوں سے ایثار اور سخاوت کی صفت مراد ہے جو زینب رضی اللہ عنہا پر سب کی نسبت زیادہ غالب تھی (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 146-147) حضرت زینب بنت حجش کو بھی آنحضور صلی ایم کی زیر تربیت رہنے کی توفیق ملی اس لئے انہوں نے بھی آنحضور صلی للی نیم کے اعلیٰ اخلاق بالخصوص سخاوت کا خاص وصف پایا۔حضرت عائشہ بھی بیان کرتی ہیں کہ میں نے زینب سے زیادہ نیک، متقی، راستباز اور راست گو اور رشتہ داروں کے لئے دردمند اور صدقہ و خیرات کی شوقین کوئی دوسری عورت نہیں دیکھی۔(1) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس حدیث کا ذکر فرمایا ہے اسکے الفاظ یہ ہیں کہ اسرعكُن لحاق بی اطوال کن۔(2) ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ امہات المومنین سمجھی تھیں کہ حضرت سودہ مراد ہیں کیونکہ وہ دراز قد تھیں اور انکے ہاتھ بھی بظاہر لمبے تھے۔لیکن جب آنحضور صلی اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش فوت ہوئیں تو معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں والی سے دراصل مراد ظاہری طور پر لمبے ہاتھ نہ تھے بلکہ استعارہ کے طور پر سب سے زیادہ سخاوت کرنے والی مراد تھی۔(3) 227