سیرة النبی ﷺ — Page 225
کہ آنحضرت نے اپنی بیوی سے آکر صحبت کی۔الفاظ حدیث صرف اس قدر ہیں کہ اس سے اپنی حاجت کو پورا کیا اور لفظ قضی حاجتہ لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے۔قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے صحبت کی تھی۔ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کر نا صریح شرارت ہے۔علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بات مروی نہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھ کر اپنی بیوی سے صحبت کی۔اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ مسلم میں جابر سے ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے۔اور وہ اس کی نظر میں خوبصورت معلوم ہو۔تو بہتر ہے کہ فی الفور گھر میں آکر اپنی عورت سے صحبت کرلے۔تاکہ کوئی خطرہ بھی دل میں گذرنے نہ پائے اور بطور حفظ ما تقدم علاج ہو جائے۔پس ممکن ہے کہ کسی صحابی نے اس حدیث کے سننے کے بعد دیکھا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی راہ میں کوئی جو ان عورت سامنے آگئی اور پھر اس کو یہ بھی اطلاع ہو گئی کہ اس وقت کے قریب ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاقا اپنی بیوی سے صحبت کی تو اس نے اس اتفاقی امر پر اپنے اجتہاد سے اپنے گمان میں ایسا ہی سمجھ لیا ہو کہ اس حدیث کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عمل کیا۔پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ قول صحابی کا صحیح تھا تو اس سے کوئی بد نتیجہ نکالنا کسی بد اور خبیث آدمی کا کام ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات پر بہت حریص ہوتے ہیں کہ ہر یک نیکی اور تقویٰ کے کام کو عملی نمونہ کے پیرایہ میں لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیں۔پس بسا اوقات وہ تنزل کے طور پر کوئی ایسا نیکی اور تقویٰ کا کام بھی کرتے ہیں جس میں محض عملی نمونہ دکھانا منظور ہوتا ہے اور ان کے نفس کو اس کی کچھ بھی حاجت نہیں ہوتی جیسا کہ ہم قانون قدرت کے آئینہ میں یہ بات حیوانات میں بھی پاتے ہیں۔مثلاً ایک مرغی صرف مصنوعی طور پر اپنی منقار دانہ پر اس غرض سے مارتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکھاوے کہ اس طرح دانہ زمین پر سے اٹھانا چاہئے سو عملی نمونہ دکھانا کامل معلم کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہر یک فعل معلم کا اس کے دل کی حالت کا معیار نہیں ہو تا ماسوا اس کے ایک خوبصورت کو اگر اتفاقاً اس پر نظر پڑ جائے خوبصورت سمجھنا نفس الامر میں کوئی بات عیب کی نہیں۔ہاں بد خطرات کامل تقدس کے بر خلاف ہیں لیکن جو شخص بد خطرات سے پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر تقویٰ کی دقیق راہوں پر قدم مارے تا خطرات سے دور رہے تو کیا ایسا عمل کمال کے منافی ہو گا۔یہ تعلیم قرآن شریف کی نہایت اعلیٰ 225