سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 222 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 222

حدیث میں سے دکھلاویں کیسی بے ایمان قوم ہے کہ جھوٹ بولنے سے شرم نہیں کرتی۔اگر افتراء نہیں تو ہمیں بتلا دیں کہاں لکھا ہے کیا قرآن شریف میں یا بخاری اور مسلم میں۔قرآن شریف کے بعد بالاستقلال وثوق کے لائق ہماری دو ہی کتابیں ہیں ایک بخاری اور ایک مسلم۔سو قرآن یا بخاری اور مسلم سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ نکاح زینب کے خلاف مرضی پڑھا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ جس حالت میں زینب زید سے جو آنحضرت کا غلام آزاد تھا راضی نہ تھی اور اسی بناء پر زید نے تنگ آکر طلاق دی تھی اور زینب نے خود آنحضرت کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی اور آنحضرت کے اقارب میں سے اور ممنون منت تھی تو زینب کے لئے اس سے بہتر اور کونسی مراد اور کونسی فخر کی جگہ تھی کہ غلام کی قید سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح میں آوے جو خدا کا پیغمبر اور خاتم الانبیاء اور ظاہری بادشاہت اور ملک داری میں بھی دنیا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قیصر اور کسری کانپتے تھے۔دیکھو تمہارے ہندوستان کے راجوں نے محض فخر حاصل کرنے کے لئے مغلیہ خاندان کے بادشاہوں کو باوجو د ہندو ہونے کے لڑکیاں دیں اور آپ درخواستیں دے کر اور تمنا کر کے اس سعادت کو حاصل کیا اور اپنے مذہبی قوانین کی بھی کچھ رعایت نہ رکھی بلکہ اپنے گھروں میں ان لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھایا اور اسلام کا طریق سکھایا اور مسلمان بنا کر بھیجا حالانکہ یہ تمام بادشاہ اس عالیشان جناب کے آگے پیچ تھے جس کے آگے دنیا کے بادشاہ جھکے ہوئے تھے کیا کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایک ایسی عورت جو اس ذلت سے تنگ آگئی تھی جو اس کا خاوند ایک غلام آزاد کر دہ ہے وہ اس غلام سے آزاد ہونے کے بعد اس شہنشاہ کو قبول نہ کرے جس کے پاؤں پر دنیا کے بادشاہ گرتے تھے بلکہ دیکھ کر رعب کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ملک کا بادشاہ گرفتار ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا اور وہ ڈر کر بید کی طرح کا نپتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اس قدر خوف مت کر۔میں کیا ہوں ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں جو باسی گوشت کھایا کرتی تھی سو ایسا خاوند جو دنیا کا بھی بادشاہ اور آخرت کا بھی بادشاہ ہو وہ اگر فخر کی جگہ نہیں تو اور کون ہو سکتا ہے۔اور زینب وہ تھی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے ساتھ آپ شادی کی تھی اور آپ کی دست پروردہ تھی اور ایک یتیم لڑکی آپ کے عزیزوں میں سے تھی جس کو آپ نے پالا تھا وہ دیکھتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں عزت کے تخت پر بیٹھی ہیں اور میں ایک غلام کی جو رو ہوں اسی وجہ سے دن رات تکرار رہتا تھا۔اور قرآن شریف بیان فرماتا ہے کہ آنحضرت اس رشتہ سے طبعاً نفرت رکھتے تھے 222