سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 221 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 221

بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر صرف منہ کی بات سے ایک آریہ کی عورت اس کی ماں نہیں بن سکتی تو اسی طرح صرف منہ کی بات سے غیر کا بیٹا بیٹا بھی نہیں بن سکتا۔“ (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 55 تا60) ”زینب کے نکاح کا قصہ جو آپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کر دیا بجز اس کے کیا کہیں کہ گہر از خطا خطانہ کند اے نالائق متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرناز نا نہیں۔صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن سکتی ہے مثلاً اگر کوئی عیسائی غصہ میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔بلکہ وہ بدستور اسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے نہیں ہو سکتی اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔اب تم پر فرض ہے کہ اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے یا یہ کہ اپنے مسیح کی تعلیم کو نا قص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائبل کی رو سے متبنی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا اور بیٹے کی طرح وارث ہو جاتا ہے اور اگر کچھ ثبوت نہ دے سکو۔تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لَعَنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ مسیح بھی تم پر لعنت کرتا ہے۔کیونکہ مسیح نے انجیل میں کسی جگہ نہیں کہا کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں امر ہم شکل ہیں۔اگر صرف منہ کے کہنے سے ماں نہیں بن سکتی تو پھر بیٹا بھی نہیں بن سکتا اور نہ باپ بن سکتا ہے اب اگر کچھ حیا ہو تو مسیح کی گواہی قبول کر لویا اس کا کچھ جواب دو اور یاد رکھو کہ ہر گز نہیں دے سکو گے اگر چہ فکر کرتے کرتے مر ہی جاؤ کیونکہ تم کاذب ہو اور صحیح تم سے بیزار ہے “ دوسرے اعتراض کا جواب: ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 388، 389) اور دوسری جز جس پر اعتراض کی بنیادر کھی گئی ہے یہ ہے کہ زینب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کیا تھا صرف زبر دستی خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا۔اس کے جواب میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت بد ذاتی کا افتراء ہے جس کا ہماری کتابوں میں نام و نشان نہیں۔اگر سچے ہیں تو قرآن یا 221