سیرة النبی ﷺ — Page 207
آنحضرت علی الم کی نبیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپ ساری ساری رات خد اتعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ایک رات آپ کی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس تھی۔کچھ حصہ رات کا گذر گیا تو حضرت عائشہ کی آنکھ کھلی۔دیکھا کہ آپ موجود نہیں۔اُسے شبہ ہوا کہ شائد آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں اُس نے اُٹھ کر ہر ایک گھر میں تلاش کیا، مگر آپ نہ ملے۔آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رورہے ہیں۔اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چہیتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں ؟ غرضکہ خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا اصل منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آدیں۔اور تقویٰ کی تحمیل کے لیے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔آنحضرت علی علم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر آپ سے ملنے گئے۔ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔آنحضرت ملا نام ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمران کو دیکھ کر رو پڑے۔آپ نے پوچھا۔اے عمر! تجھ کو کس چیز نے رلایا؟ عمر نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خد اتعالیٰ کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔آنحضرت علی ای کم نے فرمایا۔اے عمرہ مجھے دنیا سے کیا غرض ؟ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اُونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں ستالے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو ا ہو وہ پھر چل پڑے۔جس قدر نبی اور رسول ہوئے ہیں سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 51) 207