سیرة النبی ﷺ — Page 203
تسلی اور تسکین کا موجب یہی آیت تھی کہ حضرت ابو بکڑ نے پڑھی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایسے نازک وقت میں صحابہ کو سنبھالا لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 261 تا263) ”اے قابل رحم نادان یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت کی نسبت صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا اور جس طرح خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر اجماع پایا گیا ہے اسی قسم کا بلکہ اس سے افضل و اعلیٰ یہ اجماع تھا اور اگر کوئی جرح قدح اس اجماع پر ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جرح قدح خلافت مذکورہ کے اجماع پر ہو گا۔در حقیقت یہ اجماع خلافت ابو بکر کے اجماع سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اس میں کوئی ضعیف قول بھی مروی نہیں جس سے ثابت ہو جو کسی صحابی نے حضرت ابو بکر کی مخالفت کی یا تخلف کیا یعنی جب کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر بطور استدلال کے یہ آیت پڑھی کہ مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ على أَعْقَابِكُمْ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہے اس میں کوئی جز الوہیت کی نہیں اور اس سے پہلے تمام رسول دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں۔پس ایسا ہی اگر یہ بھی مر کر یا قتل ہو کر دنیا سے گذر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اُٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص اور نا تمام ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ بجسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے اور میں اور عیسی تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیونکر ثابت ہو اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور ترڈ د واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اس میں بعض صحابہ کی طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور تر ڈر بھی ہوا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کرلی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مبتلا ہو گئے تھے لیکن گذشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سنے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا 203