سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 202 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 202

کہ گل صحابہ موجود تھے۔میں یقینا کہتا ہوں اور آپ انکار نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے صحابہ کے دل پر سخت صدمہ تھا اور اس کو بے وقت اور قبل از وقت سمجھتے تھے۔وہ پسند نہیں کر سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنیں ایسی حالت اور صورت میں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا جلیل القدر صحابی اس جوش کی حالت میں ہو اُن کا غصہ فرو نہیں ہو سکتا ( تھا) بجز اس کے کہ یہ آیت ان کی تسلی کا موجب ہوتی۔اگر انہیں یہ معلوم ہوتا یا یہ یقین ہو تا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ تو زندہ ہی مر جاتے۔وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق تھے اور آپ کی حیات کے سوا کسی اور کی حیات کو گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔پھر کیونکر اپنی آنکھوں کے سامنے آپ کو وفات یافتہ دیکھتے اور مسیح کو زندہ یقین کرتے۔یعنی جب حضرت ابو بکر نے خطبہ پڑھا تو اُن کا جوش فرو ہو گیا اس وقت صحابہ مدینہ کی گلیوں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے۔اُس وقت حسّان بن ثابت نے ایک مرثیہ لکھا جس میں انہوں نے کہا كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِكْ فَعَمِنْ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ چونکہ مذکورہ بالا آیت نے بتا دیا تھا کہ سب مر گئے اس لئے حسان نے بھی کہہ دیا کہ اب کسی کی موت کی پروا نہیں۔یقیناً سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کی زندگی صحابہ پر سخت شاق تھی اور وہ اس کو گوارا نہیں کر سکتے تھے۔اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ پہلا اجماع تھا جو دنیا میں ہوا اور اس میں حضرت مسیح کی وفات کا بھی گلی فیصلہ ہو چکا تھا۔۔۔پھر وہ نبی جس نے صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا اور وہ کمالات دکھائے کہ جن کی نظیر نظر نہیں آتی وہ فوت ہو جاوے اور اس کے ان جان نثار متبعین پر اثر نہ پڑے جنہوں نے اس کی خاطر جانیں دینے سے دریغ نہ کیا۔جنہوں نے وطن چھوڑا۔خویش و اقارب چھوڑے اور اس کیلئے ہر قسم کی تکلیفوں اور مشکلات کو اپنے لئے راحت جان سمجھا۔ایک ذرا سے فکر اور توجہ سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ جس قدر بھی دکھ اور تکلیف انہیں اس خیال کے تصور سے ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اور قیاس ہم نہیں کر سکتے ان کی 202