سیرة النبی ﷺ — Page 175
”ہمارے نبی کریم صلی الم نے بھی جب نبوت کا خلعت خدا تعالیٰ سے پا کر دعوت اسلام کے خط بادشاہوں کو لکھے تھے تو ان میں سے ہر قل قیصر روم کے نام بھی ایک خط لکھا تھا۔اس نے پڑھ کر کسی عرب جو آپ کی قوم کا ہو تلاش کرائی۔چنانچہ چند قریشی جن میں ابو سفیان بھی تھا پیش خدمت کئے گئے۔ان سے بادشاہ نے چند سوال کئے جن میں یہ بھی تھا کہ اس شخص کے آباء و اجداد میں سے کبھی کسی نے نبوت کا دعویٰ تو نہیں کیا؟ جس کا جواب نفی میں دیا گیا۔پھر پوچھا گیا کہ کوئی بادشاہ تو نہیں گزرا اسکے بزرگوں میں؟ اس کا جواب بھی نفی میں دیا گیا۔پھر یہ سوال کیا کہ اس شخص کے پیروکون لوگ ہیں ؟ اس کے جواب میں کہا گیا کہ انکی پیروی کرنے والے غریب اور کمزور لوگ ہیں۔ان سوالات کے جوابات منکر قیصر نے اقرار کیا کہ انبیاء ہمیشہ دنیا میں اسی شان میں آیا کرتے ہیں، ان کے ساتھ اول میں ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں۔اس شخص نے اپنی فراست صحیحہ سے معلوم کر لیا کہ واقعی یہ شخص سچانبی ہے اور یہ وہی نبی ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے چنانچہ اس نے یہ بھی کہا وہ وقت قریب ہے کہ وہ میرے تخت کا بھی مالک ہو جاوے گا“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 5 صفحہ 584،583) آنحضور صلى الل علم کی تصویر : روایات میں ہے کہ قیصر روم کے پاس بعض انبیاء کی تصاویر تھیں ان میں آنحضور صلی اللی علم کی بھی تصویر تھی۔اس بارہ آپ نے بھی فرمایا ہے کہ ” قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 382) آنحضور صلی الم اور دوسرے انبیاء کی تصاویر کے متعلق امام سیوطی نے لکھا ہے کہ ایک دن ہر قل حضرت دحیہ کلبی کو ایک بڑے کمرے (دالان) میں لے گیا جہاں بہت سی تصویریں تھیں جنکے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ حضرت آدم کو فرشتہ نے دی تھیں اور پھر نسل در نسل حضرت سلیمان تک پہنچیں۔ان میں حضرت آدم حضرت ابراہیم حضرت نوح حضرت موسیٰ حضرت لوط حضرت اسحق حضرت اسماعیل حضرت یوسف حضرت داود حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کی تصاویر تھیں نیز ان تصویروں میں حضرت محمد صلی ای ایم اور حضرت ابو بکر صدیق کی بھی تھی (2) اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ان تصاویر کو دکھانے کے بعد قیصر ایک اور کمرے میں دروازہ کھول کر داخل ہوا۔اور ایک سیاہ ریشمی کپڑا نکالا جس میں رسول اللہ صلی علیم کی تصویر تھی۔اس نے کہا کیا تم انہیں تصویر 175