سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 174 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 174

جس میں قیصر کو اُس کی تباہی اور ہلاکت کی شرطی دھمکی دی گئی تھی اور گو قیصر نے اسلم تسلم کی شرط کو جو خط میں تھی پورے طور پر ادا نہ کیا اور عیسائی جماعت سے علیحدہ نہ ہوا لیکن تاہم اُس کی تقریر مذکورہ بالا سے پایا جاتا ہے کہ اُس نے کسی قدر اسلام کی طرف رجوع کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اُس کو مہلت دی گئی۔اور اس کی سلطنت پر بکلی تباہی نہیں آئی اور نہ وہ جلد تر ہلاک ہوا۔اب جب ہم ڈپٹی آتھم کے حال کو قیصر روم کے حال کے ساتھ مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں تو وہ دونوں حال ایک دوسرے سے ایسے مشابہ پائے جاتے ہیں کہ گویا آتھم قیصر ہے یا قیصر آتھم ہے۔کیونکہ ان دونوں نے شرطی پیشگوئی پر کسی حد تک عمل کر لیا اس لئے خدا کے رحم نے رفق اور آہستگی کے ساتھ ان سے معاملہ کیا اور اُن دونوں کی عمر کو کسی قدر مہلت دے دی۔مگر چونکہ وہ دونوں خدا کے نزدیک اخفائے شہادت کے مجرم ٹھہر گئے تھے اور آتھم کی طرح قیصر نے بھی گواہی کو پوشیدہ کیا تھا۔کیونکہ اُس نے بالآخر اپنے ارکان دولت کو اپنی نسبت بد ظن پاکر ان لفظوں سے تسلی دی تھی کہ وہ میری پہلی باتیں جن میں میں نے اسلام کی رغبت ظاہر کی تھی اور تمہیں ترغیب دی تھی وہ باتیں میرے دل سے نہیں تھیں بلکہ میں تمہارا امتحان کرتا تھا کہ تم کس قدر عیسائی مذہب میں مستحکم ہو“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 372 تا 376) اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میں جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنی خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعد كتب اللہ صحیح بخاری کی عبارت لکھتا ہوں ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے و قد كنت اعلم انه خارج و لم اكن اظن انه منكم فلو اني اعلم انی اخلص اليه لتجشمت لقاء ه و لو كنت عنده لغسلت عن قدمیہ دیکھو ص ۴ یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی (اے اہل عرب) پیدا ہو گا پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہو تا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 387،386) 174