سیرة النبی ﷺ — Page 164
روایات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور باقی صحابہ کا یہ رد عمل ایک غم کی حالت میں تھا۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ صحابہ نعوذ باللہ ایسے شک میں مبتلا ہو گئے تھے کہ منحرف ہو جاتے۔جیسا کہ اس موقعہ کے دیگر واقعات سے اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ ابتلا نہایت قلیل وقت کے لئے تھا۔صحابہ اس سکنہ سے نکلنے کے ساتھ ہی اطاعت کا ایک کامل نمونہ تھے۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے کہا اٹھو قربانی دو پھر سر منڈواؤ (یعنی احرام کھول دو) راوی کہتا ہے۔فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرّات کہ خدا کی قسم صحابہ میں سے کوئی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ نے تین دفعہ یہ حکم دیا جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور لوگوں کے اس معاملہ کا ذکر کیا۔ام سلمہ نے کہا۔اے اللہ کے نبی ! کیا آپ ایسا چاہتے ہیں ؟ آپ ان میں سے کسی سے ایک کلمہ بھی نہ کہئے۔اپنی قربانی دیجئے پھر مونڈنے والے کو بلائیے کہ وہ آپ کا سر مونڈ دے۔آپ نے ایسا ہی کیا۔باہر نکلے کسی سے کلام نہ کی اپنی قربانی دی اور سر منڈایا جب صحابہ نے یہ دیکھاتو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے قربانیاں دیں اور بعض بعض کا سر مونڈنے لگے حتى كاد بعضهم يقتل بعضًا غنا کہ قریب تھا کہ غم کے مارے ایک دوسرے کو قتل کر دیں۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اگر چہ اس اجتہادی غلطی کے وقوع سے ایک وقتی ابتلا تو تھا لیکن صحابہ ایسی حالت میں نہیں تھے کہ نعوذ باللہ وہ ہمیشہ کے لئے آپ سے منہ پھیر لیتے۔اجتہادی غلطی، سھو نسیان کے امکان میں حکمت: اس مضمون کو حضور نے نہایت اعلیٰ رنگ میں ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی ان سے علیحدہ نہیں ہوتا۔مگر بعض اوقات خدا تعالیٰ بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سھو یا غلطی کی شکل پر ان سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے تب پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاتا ہے گویا اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔۔۔جس حالت میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفی کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے۔اور ہر بات میں ، حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں، روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے 164