سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 152 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 152

ابو جہل نے جب بدر کی لڑائی میں یہ دُعا کی تھی کہ اللهم من كان منا كاذبا فاحنه في هذا الموطن یعنی اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد مصطفے صلی ال ایام اور میں ہوں جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے اُس کو اسی موقع قتال میں ہلاک کر۔تو کیا اس دُعا کے وقت اُس کو گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں؟“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 52) ابو جہل کی اس دعا کا ذکر بھی سیرت کی بہت سی کتب میں موجود ہے۔ابو جہل کی ہلاکت کے متعلق یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دو کم عمر لڑکوں معاذ اور معوذ نے اس پر اچانک حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا لیکن جنگ کے اختتام تک ابو جہل شدید زخمی حالت میں زندہ رہا۔اور حسرت کے ساتھ اپنی اور اپنی قوم کی شکست کا منظر دیکھتا ہوا بالآخر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔(2) ابو جہل نہایت متکبر انسان تھا۔مرتے وقت بھی اس کے متکبرانہ الفاظ تھے جو تاریخ میں محفوظ ہیں مثلاً اسکا قول کہ لو غیر اگار قتلنی یعنی کاش مجھے کسی کسان نے قتل نہ کیا ہوتا۔آنحضور صلی ا ہم نے اسکے تکبر کی وجہ سے امت کا فرعون قرار دیا ہے (3) جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ: ابو جہل جو اس امت کا فرعون تھا بدر کے میدان میں ہلاک کیا گیا“ کنکریوں بھری مٹی کا معجوہ ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 362) چوتھی وہ تصرف اعجازی کہ جب دشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہو کر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کی تا مسلمانوں کو جو ابھی تھوڑے سے آدمی تھے نابود کر دیں اور دین اسلام کا نام و نشان مٹادیں تب اللہ جل شانہ نے جناب موصوف کے ایک مٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقام بدر میں دشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہوئی اور خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کر کے وہیں رکھا اور ان کی لاشیں انہیں مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلار کھے تھے “ سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2۔حاشیہ ، صفحہ 67،66) 152