سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 149 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 149

اور سبقت کرنے والے ہیں اور نیز یہ تو نہیں تھا کہ صرف کفار ہی مارے جاتے تھے بلکہ جانبین سے مرنے والے کام آتے تھے اور کفار ظالم اور حملہ آور تھے “ آنحضور صلی السلام کی دعا (نورالحق حصہ اول، اردو ترجمه ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 65،64) ”ہر یک نبی کو خدائے تعالیٰ یہ دن دکھاتا ہے۔اوّل وہ کوئی وعدہ بشارت اپنے نبی کو دیتا ہے اور پھر جب وہ نبی اس وعدہ پر خوش ہو جاتا ہے تو ابتلا کے طور پر چاروں طرف سے ایسے موانع قائم کر دیتا ہے کہ جو نومیدی اور ناکامی پر دلالت کرتے ہوں بلکہ قطع اور یقین کی حد تک پہنچ گئے ہوں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے ایک طرف تو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کی لڑائی میں فتح اور نصرت کی بشارت دی اور دوسری طرف جب لڑائی کا وقت آیا تو پھر پتہ لگا کہ مخالفوں کی اس قدر جمعیت ہے کہ بظاہر کامیابی کی امید نہیں۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت کرب و قلق ہوا اور جناب الہی میں رورو کر دعائیں کیں کہ یا الہی اس گروہ کو فتح بخش اور اگر تو فتح نہیں دے گا اور ہلاک کر دے گا تو پھر قیامت تک کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔سو یہ الفاظ در حقیقت اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے بلکہ حالات موجودہ کو خلاف مراد دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے غنائے ذاتی پر نظر تھی اور اس کی جلالی ہیبت سے متاثر ہو گئے تھے اور در حقیقت هر یک جگہ جو قرآن شریف میں نبی کریم کو کہا گیا ہے کہ تُو ہمارے وعدہ میں شک مت کر وہ سب مقامات اسی قسم کے ہیں جن میں بظاہر سخت ناکامی کی صورتیں پیدا ہو گئی تھیں اور اسباب مخالفہ نے ایسا رعب ناک اپنا چہرہ دکھلایا تھا جن کو دیکھ کر ہر یک انسان ضعف بشریت کی وجہ سے حیران ہو جاتا ہے۔سو ان وقتوں میں نبی کریم کو بطور تسلی دہی کے فرمایا گیا کہ اگر چہ حالت نہایت نازک ہے مگر تو باعث ضعف بشریت شک مت کر یعنی یہ خیال مت کر کہ شاید اس پیشگوئی کے اور معنے ہوں گے“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 304) بدر کی فتح کی پیشگوئی ہوچکی تھی، ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعامانگتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت 149