سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 148 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 148

ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے۔“ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 244) ” اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قرآن میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے وقت تجویز کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا تک پہنچ جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہے دیکھو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دکھ دیتے اور رات دن ستاتے اور شریروں کی طرح ان کے مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں کو قتل کرتے اور ایسے بڑے بڑے عذابوں سے مارتے کہ ان کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں اور نیک آدمیوں کے دل کانپتے ہیں اور اسی طرح دکھ انتہا کو پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سو اس کے رب نے اس کو حکم دیا تاوہ مدینہ بھاگ جائے سو آنحضرت صلعم اپنے وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے بھڑکاتے اور دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر معہ اپنے سواروں اور پیادوں کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب ہے اپنی فوج کے خیمے کھڑے کر دیئے اور چاہا کہ دین کی بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر بھڑ کا اور اس نے ان کے بڑے ظلم اور سختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ کیا تو اس نے اپنی وحی اپنے رسول پر اتاری اور کہا کہ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو نا حق ان کے قتل کے لئے ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لئے انہیں مقابلہ کی اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد کرے سو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل پر ہتھیار اٹھانے کی پر اجازت دی جن کی طرف سے ابتدا تھی مگر اس وقت اجازت دی جبکہ انتہا درجہ کی زیادتی اور گمراہی ان کی طرف سے دیکھ لی اور یہ دیکھ لیا کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ بمجرد نصیحتوں سے ان کی اصلاح غیر ممکن ہے پس اب سوچو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں کی کیا حقیقت تھی اور نبی اللہ دشمنان دین سے ہر گز نہیں لڑا مگر جب تک کہ اس نے یہ نہ دیکھ لیا کہ وہ تیر چلانے اور تلوار مارنے میں پیش دست 148