سیرة النبی ﷺ — Page 144
باب پنجم جہاد بالسیف و غزوات سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے اس دور اعوج کے مسلمانوں کے بگڑے ہوئے نظریہ جہاد کی اصلاح فرمائی۔ابتدائی غزوات و سرایہ کی حقیقی غرض و غایت بیان فرمائی۔بہت سے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اسلام میں تلوار کی اجازت اسلام کی اشاعت کی خاطر تھی۔گویا انکے نزدیک اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔غیر مسلم مورخین نے اسلام پر جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سب سے بڑھ کر یہی ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔اس اعتراض کو مسلمانوں کے ہی غلط عقائد و نظریات نے تقویت دی ہے۔اس باب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں جہاد اور ابتدائی غزوات وسرایہ اور انکی غرض و غایت بیان کی جارہی ہے۔دفاعی جنگ کے لئے اجازت: جہاد السیف کی اجازت کے متعلق آپ نے فرما اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام میں کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر کیونکر اسلام صلحکاری کا مذہب ٹھہر سکتا ہے پس واضح ہو کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت ہے اور یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ دین اسلام میں جبر آدین پھیلانے کے لئے حکم دیا گیا تھا کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں تیر ۱۳۰ برس تک سخت دل کافروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اٹھائیں اور وہ دُکھ دیکھے کہ بجز اُن برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص اُن دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا اور اس مدت میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بار زدو کوب کر کے موت کے قریب کر دیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہو گئے اور آخر کار کافروں نے یہ منصوبہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اس مذہب کا فیصلہ ہی کر دیں۔تب اس نیت سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شہر 144