سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 111 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 111

ڈرائینگ ماسٹر نے ایک مباحثہ میں اس واقعہ پر اعتراض کیا کہ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ نبی معجزے دکھلاتے رہے ہیں چنانچہ حضرت محمد صاحب نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دونوں آستینوں سے نکال دیا۔سو یہ امر قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ ایک شے ہزاروں میل لمبی چوڑی یا ہزاروں میل قطر والی چھہ انچ یا ایک فٹ کے سوراخ سے نکل جاوے اور چاند جو ماہواری گردش زمین کے گرد کرتا ہے وہ اپنی گردش کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو جائے جس سے انتظام عالم میں ہی فرق آجائے۔اور پھر علاوہ اس کے سوائے دو چار شخصوں کے کوئی نہ دیکھے۔کیونکہ کسی ملک میں مثلاً ہندوستان چین بر ہما وغیرہ کی تاریخوں میں اس کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ یہ باتیں بالکل بناوٹی ہیں اگر اصلی ہیں تو ان کا کیا ثبوت ہے۔اسکے جواب میں حضور نے فرمایا: سرمه چشم آرید ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 108) ”اس کے جواب میں واضح ہو کہ یہ اعتراض کہ کیونکر چاند دو ٹکڑے ہو کر آستین میں سے نکل گیا تھا یہ سراسر بے بنیاد اور باطل ہے کیونکہ ہم لوگوں کا ہر گز یہ اعتقاد نہیں ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین میں سے نکلا تھا اور نہ یہ ذکر قرآن شریف میں یا حدیث صحیح میں ہے اور اگر کسی جگہ قرآن یا حدیث میں ایسا ذ کر آیا ہے تو وہ پیش کرنا چاہیئے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی آریہ صاحبوں پر یہ اعتراض کرے کہ آپ کے یہاں لکھا ہے کہ مہان دیوجی کی لٹوں سے گنگا نکلی ہے۔پس جس اعتراض کی ہمارے قرآن یا حدیث میں کچھ بھی اصلیت نہیں اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ماسٹر صاحب کو اصول اور کتب معتبرہ اسلام سے کچھ بھی واقفیت نہیں۔بھلا اگر یہ اعتراض ماسٹر صاحب کا کسی اصل صحیح پر مبنی ہے تو لازم ہے کہ ماسٹر صاحب اسی جلسہ میں وہ آیت قرآن شریف پیش کریں جس میں ایسا مضمون درج ہے یا اگر آیت قرآن نہ ہو تو کوئی حدیث صحیح ہی پیش کریں جس میں ایسا کچھ بیان کیا گیا ہو اور اگر بیان نہ کر سکیں تو ماسٹر صاحب کو ایسا اعتراض کرنے سے متندم ہونا چاہئے کیونکہ منصب بحث ایسے شخص کے لئے زیبا ہے جو فریق ثانی کے مذہب سے کچھ واقفیت رکھتا ہو۔باقی رہا یہ سوال کہ شق قمر ماسٹر صاحب کے زعم میں خلاف عقل ہے جس سے انتظام ملکی میں خلل پڑتا ہے یہ ماسٹر صاحب کا خیال سراسر قلت تدبر سے ناشی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ جل شانہ جو کام صرف 111