سیرة النبی ﷺ — Page 107
بشرارسولا (بنی اسرائیل : (94) کہ دے میر ارب پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں۔انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے “ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 4 صفحہ 646) ”بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے۔تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فاستیقظ لکھا۔اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رویا کا لفظ ہے وما جعلنا الرؤيا التي اريناک (بنی اسرائیل: 61) “ 66 ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 634) ”بیشک ہم بھی جانتے ہیں کہ جسم کے ساتھ آپ گئے تھے۔بیداری بھی تھی اور جسم بھی تھا مگر وہ ایک اعلیٰ درجہ کی کشفی حالت تھی اس دلیل کے واسطے بخاری کو دیکھ لو کہ یہ سارا واقعہ لکھنے کے بعد لکھا ہو گا كه ثم استيقظ بھلا اس کے کیا معنے ؟ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کو بہت عرصہ آنحضرت علی ایم کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا تھا۔اور جن کا علم بھی بہت بڑا تھا ان کی یہ روایت ہے۔استیقظ سے یہ مراد نہیں کہ آپ نے خواب دیکھا تھا بلکہ ایک قسم کی بیداری تھی اور اس میں یہ بھی شعور تھا کہ مع جسم گئے۔یہ ایک خدا تعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے کہ غیوبت حس نہیں ہوتی اور یہ ایک نکتہ ہے کہ علم سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ تجربہ صحیحہ اس کو حل کر سکتا ہے۔فلسفہ اور طبعی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اعتراض کے قابل بات ہے مگر بعض لوگ خود اسلام کو بگاڑتے اور قابل اعتراض بناتے ہیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 618) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو رد کرتا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بھی رؤیا کہتی ہیں۔حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہو تا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا 107