سیرة النبی ﷺ — Page 97
قبول کر لیا تھا اور انکے بیٹے حضرت عمار بھی مسلمان ہو گئے تھے انکے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ابو جہل کی نگرانی میں بنوم مخزوم الِ یا سر پر دردناک مظالم ڈھاتے تھے۔انکو گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ریت پر ننگے بدن لٹا کر او پر بھاری پتھر رکھ دیا کرتے تھے اور تازیانوں سے مارا کرتے تھے۔ایک دفعہ آنحضور صلی ا ہم نے اس خاندان کو ایسی مظلومیت کی حالت میں دیکھ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر انکو جنت کی نوید سنائی فرمایا صبرا يا ال ياسر موعدُكُمُ الجنة - اے ال یاسر صبر کرو خدا نے تمہارے لئے جنت لکھ دی ہے۔حضرت یا شر کو تو قریش نے اسی طرح کے دکھ دیتے ہوئے شہید کر دیا۔اور انکی بیوی حضرت سمیہ کو نہایت ظالمانہ طریق سے انکی ران میں نیز امار کر شہید کر دیا حضرت عمار کو بھی طرح طرح کے دکھ دیتے رہے۔اس طرح اس خاندان نے صبر ووفا کا عظیم نمونہ دکھایا۔(22) حضرت بلال کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا آقا امیہ بن خلف نہایت ظالمانہ طریق سے انکو مارا کرتا تھا۔انکو ننگے بدن تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا کرتا تھا۔اور حضرت بلال کے منہ سے صرف احد احد کی آواز ہی نکلتی تھی۔اور اسی حالت میں نڈھال ہو کر بیہوش ہو جایا کرتے تھے۔حضرت ابو فکی جو کہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے انکو بھی اسی طرح کے دکھ دئے جاتے تھے۔حضرت لبینہ بنو عدی کی لونڈی تھیں انکو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے حضرت عمرؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے مارا کرتے تھے۔حضرت زنیرہ پر ابو جہل نے اس قدر ظلم کیا کہ انکی آنکھیں جاتی رہیں۔لیکن اس نے اسلام کو نہ چھوڑا۔حضرت خباب بن الارت گو لوگوں نے پکڑ کر دہکتے ہوئے انگاروں پر سینہ کے بل لٹا دیا اور اوپر ایک شخص چڑھ گیا تا کہ ہل بھی نہ سکیں۔(23) مشرکین بعض اوقات مسلمانوں پر اس قدر ظلم کرتے تھے کہ وہ اس ظلم کی تاب لانے کے قابل نہ ہوتے تھے۔اور وہ ان لمحوں میں خدا کے حضور دین کے معاملہ میں مضطر کی کیفیت میں ہوتے تھے۔قریش ان میں سے کسی کو مارتے تھے، کسی کو بھوکا اور پیاسا رکھتے تھے۔بعض ان میں سے بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔کمزوری کے باعث غشی کی سی کیفیت میں ہوتے تھے۔قریش ان سے ایسی حالت میں جو چاہتے کہلوالیتے تھے۔یہاں تک کہ اس کیفیت میں نا قابل برداشت تکالیف سے بچنے کے لئے گوبر کے کیڑے کو بھی خدا کہہ سکتے تھے۔اور جب انکی حالت ذرا بہتر ہوتی تو وہ اسلام کی تعلیمات پر ہی قائم ہوتے تھے۔اور ایسی حالت کے صرف ایک یا دو صحابہ کے واقعات ہی ملتے ہیں۔ورنہ اکثر صحابہ کے منہ سے اسلام لانے کے بعد کبھی اضطراری حالت میں بھی خلاف توحید کوئی کلمہ نہ نکلا۔(24) شعب ابی طالب میں محصوری کا زمانہ مظالم کی انتہا کا زمانہ تھا۔آنحضور صلی علی نام کو آپ کے صحابہ کے ساتھ بلکہ چچا ابو طالب کو بھی ایک محلہ میں محصور کر دیا گیا۔اور ان ایام میں مسلمانوں نے شدید بھوک اور پیاس کی تکالیف جھیلیں۔انہی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات ہو گئی۔(25) 97