سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 81 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 81

فرمایا : ”دیکھو ہمارے نبی صلی علیم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب کے سب دشمن ہو گئے مگر آپ نے ایک دم بھر کے لئے کبھی کسی کی پروا نہیں کی۔یہاں تک کہ جب ابو طالب آپ کے چچانے لوگوں کی شکایتوں سے تنگ آکر کہا اس وقت بھی آپ نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں اس کے اظہار سے نہیں رک سکتا۔آپ کا اختیار ہے میر اساتھ دیں یا نہ دیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 281) ایک دفعہ اوائل دعوت میں آنحضرت مصلی یکم نے ساری قوم کو بلایا۔ابو جہل وغیرہ سب ان میں شامل تھے۔اہل مجمع نے سمجھا تھا کہ یہ مجمع بھی کسی دنیوی مشورہ کے لئے ہو گا۔لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنیوالے عذاب سے ڈرایا گیا تو ابو جہل بول اُٹھا تَبَّا لَكَ الهذ اجمَعتَنَا غرض باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی ال ولم کو وہ صادق اور امین سمجھتے تھے مگر اس موقعہ پر انہوں نے خطرناک مخالفت کی اور ایک آگ مخالفت کی بھڑک اُٹھی، لیکن آخر آپ کامیاب ہو گئے اور آپ کے مخالف سب نیست و نابود ہو گئے “ 66 ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 379) مذکورہ بالا ارشادات سے ظاہر ہے کہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی جب آپ نے لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی تو ساتھ ہی مخالفت کا آغاز ہو گیا۔کتب تاریخ و سیرت اس بارہ میں مختلف تفصیلات بیان کرتی ہیں لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ مخالفت کا آغاز آغاز تبلیغ کے ساتھ ہی ہو گیا تھا ابن سعد کی روایت کے مطابق ابتداء وحی کے زمانہ میں ہی جب لوگوں نے اپنے بتوں کی مذمت سنی اور اپنے آباء واجداد کے کفر کی بابت سنا وہ دشمنی پر اتر آئے عام مخالفت کا پہلا واقعہ اسی واقعہ کو قرار دیا جاتا ہے جس میں ابو لہب نہ کہا تبَّا لَكَ الهذ اجمعتنا۔یعنی نعوذ باللہ تجھ پر ہلاکت ہو کیا اس بات کے لئے ہمیں جمع کیا تھا۔یہ مخالفت ابتداء میں کم تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخالفت اور دشمنی میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور تھوڑا عرصہ بعد ہی قریش نے بزور شمشیر اسلام کا خاتمہ کرنا چاہا۔اس مخالفت کی کئی وجوہات تھیں۔اور اس میں کئی حکمتیں بھی تھیں جن کا ذکر اگلے صفحات میں (13) کیا جائے گا۔81