سیرة النبی ﷺ — Page 69
أسد بن فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجف فؤاده، فدخل على خديجة بنت خويلد رضي الله عنها فقال زملونی۔زملونی فزملوه حتى ذهب عنه الروع، فقال لخديجة وأخبرها الخبر: (لقد خشيت على نفسي)۔فقالت خديجة : كلا والله ما يخزيك الله أبدا، إنك لتصل الرحم، وتحمل الكل، وتكسب المعدوم، وتقرى الضيف، وتعين على نوائب الحق۔فانطلقت به خديجة حتى أتت به ورقة بن نوفل بن عبد العزى، ابن عم خديجة، وكان امرء ا تنصر في الجاهلية، وكان يكتب الكتاب العبراني، فيكتب من الإنجيل بالعبرانية ما شاء الله أن يكتب وكان شيخا كبيرا قد عمى، فقالت له خديجة: يا بن عم، اسمع من ابن أخيك۔فقال له ورقة : يا بن أخى ماذا ترى؟ فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى، فقاله له ورقة : هذا الناموس الذى نزل الله به على موسى، يا ليتني فيها جذع، ليتنى أكون حيا إذ يخرجک قومك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أو مخرجى هم)۔قال: نعم، لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودى وإن يدركنى يومك أنصرك نصرا مؤزرا۔ثم لم ينشب ورقة أن توفى، وفتر الوحى ترجمہ: ام المومنین عائشہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا سب سے پہلی وحی جور سول اللہ صلی للی کم پر شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے۔پس جو خواب آپ صلی اللہ ہم دیکھتے تھے وہ صاف صاف) صبح کی روشنی کے مثل ظاہر ہو جاتا تھا۔(پھر اللہ کی طرف سے) خلوت کی محبت آپ صلی الی یکم کو دے دی گئی۔چنانچہ آپ صلی علیہ کی غار حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے اور وہاں آپ کئی راتیں ( لگا تار عبادت کیا کرتے تھے۔بغیر اس کے کہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آتے اور اسی قدر زادراہ بھی لے جاتے یہاں تک کہ آپ صلی الم کے پاس وحی آگئی اور آپ صلی للہ یکم غار حرا میں تھے یعنی فرشتہ آپ صلی نیلم کے پاس آیا اور اس نے ( آپ صلی علیہم سے ) کہا کہ پڑھو ! آپ صلی علیہم نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔آپ صلی علیہ کی فر ماتے ہیں پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے ( زور سے) بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی۔پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور ( زور سے) بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے۔تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔آپ صلی علیہ یکم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پھر پکڑ لیا اور تیسری بار مجھے (زور سے ) بھینچا پھر مجھے کہا کہ (اقرا باسم ربک) الخ ( العلق : 3-1) اپنے پروردگار کے نام (کی برکت) سے پڑھو جس نے ( ہر چیز کو پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا پڑھو اور ( یقین کر لو کہ) تمہارا پروردگار بڑا بزرگ ہے“۔پس رسول اللہ صلی الی یکم کا دل اس واقعہ کے سبب سے (مارے خوف کے کانپنے لگا اور آپ صلی علیہ ظلم ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس 69