سیرة النبی ﷺ — Page 60
ابی کبشہ کہتے تھے ) غرض عرب کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے یا کوئی اور عظیم الشان آدمی پیدا ہوتا ہے تو کثرت سے تارے ٹوٹتے ہیں۔اسی وجہ سے بمناسبت خیالات عرب کے شہب کے گرنے کی خدائے تعالیٰ نے قسم کھائی جس کا مدعا یہ ہے کہ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو اور تمہارے کا ہن اس بات کو مانتے ہیں کہ جب کثرت سے شہب گرتے ہیں تو کوئی نبی یا عظیم من اللہ پیدا ہوتا ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ ہے۔چونکہ شہب کا کثرت سے گرنا عرب کے کاہنوں کی نظر میں اس بات کے ثبوت کے لئے ایک بدیہی امر تھا۔کہ کوئی نبی اور ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کاہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے وہی بد یہی امر اُن کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تا اُن کو اس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساختہ پر داختہ نہیں“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5۔حاشیہ صفحہ 103 تا107) اس عنوان کے تحت بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجن میں کچھ روایات درج ہیں۔نیز دیگر مفسرین نے بھی اس موضوع کے تحت کئی روایات درج کی ہیں۔جیسے تفسیر القرآن لابن کثیر ، سورۃ الجن، جلد 5 صفحہ 46۔پاکیزہ شباب: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں اور بجز خدا کے کوئی متکفل نہ تھا۔اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کسی چچا نے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی۔کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متحمل ہو سکیں۔اور نیز محض آتی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 465) 60 60