سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 59 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 59

سقوط شہب در جم شیاطین : کتب تفسیر اور تاریخ وسیرت میں زمانہ بعثت نبوی صلی ا تم میں سقوط شہب کے متعلق بھی روایات درج ہیں، حضور نے سورۃ الجن کا حوالہ دیتے ہوئے سقوط شہب در زمانہ بعثت نبوی کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔اب جاننا چاہیئے کہ عرب کے لوگ بوجہ ان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے اُن میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کا ہن جو ارواح خبیثہ سے کچھ تعلق پیدا کر لیتے تھے اور اخبار غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گویا پختہ اور یقینی عقیدہ تھا کہ کثرت شہب یعنی تاروں کا معمولی اندازہ سے بہت زیادہ ٹوٹنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوط شہب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اور حکایتا عن الجنات فرماتا ہے۔وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا۔وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا (الجن:9) ا۔سورۃ الجن الجزو نمبر ۲۹۔یعنی ہم نے آسمان کو ٹولا تو اُس کو چوکیداروں سے یعنی فرشتوں سے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے اس سے امور غیبیہ کے سننے کے لئے آسمان میں گھات میں بیٹھا کرتے تھے اور اب جب ہم سننا چاہتے ہیں تو گھات میں ایک شعلے کو پاتے ہیں جو ہم پر گرتا ہے۔ان آیات کی تائید میں کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں۔بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ سب اس قسم کی حدیثیں اپنی تالیفات میں لائے ہیں کہ شہب کا گر ناشیاطین کے رد کرنے کے لئے ہوتا ہے اور امام احمد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ شہب جاہلیت کے زمانہ میں بھی گرتے تھے لیکن ان کی کثرت اور غلظت بعثت کے وقت میں ہوئی چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جب کثرت سے شہب گرے تو اہل طائف بہت ہی ڈر گئے اور کہنے لگے کہ شاید آسمان کے لوگوں میں تہلکہ پڑ گیا تب ایک نے اُن میں سے کہا کہ ستاروں کی قرار گاہوں کو دیکھو اگر وہ اپنے محل اور موقعہ سے ٹل گئے ہیں تو آسمان کے لوگوں پر کوئی تباہی آئی ورنہ یہ نشان جو آسمان پر ظاہر ہوا ہے ابن ابی کبشہ کی وجہ سے ہے (وہ لوگ شرارت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن 59