سیرة النبی ﷺ — Page 58
طا کی آیت قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُ بِهَا عَلَى غَنَمِي وَلِي فِيهَا مَارِبُ أُخْرَى (طه:19) یعنی: اس نے کہا یہ میر اعصا ہے، میں اس پر سہارا لیتا ہوں اور اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں پر پتے جھاڑ تا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔سورۃ القصص میں بھی اشارے ملتے ہیں کہ حضرت شعیب اور انکی اولاد بھی بکریوں کی نگہبانی کرتے تھے۔دراصل بکریاں چرانے میں کئی حکمتیں ہیں اور انکا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان ارشادات میں فرمایا ہے جو پہلے پیش کئے جاچکے ہیں۔ان ارشادات سے جو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں انکا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حالات جو آپ صلی اللہ تم پر وارد ہوئے یہ خاص حکمت الہی سے تھے۔مثلا یہ کہ شیر خوارگی کی عمر میں دالوں کے سپر د کئے جانے سے آپ میں وسعت حوصلہ بہادری اور صبر کی عادات پروان چڑ ہیں۔بکریوں کی نگہبانی سے آپ کی ایم کی کئی پہلوؤں سے تربیت ہوئی۔چرواہے جب گلہ لیکر جنگلوں میں جاتے ہیں تو بکریاں تو اپنا پیٹ بھر لیتی ہیں لیکن چرواہے اکثر بھوکے رہ جاتے ہیں یا انہیں ادنیٰ قسم کی غذا پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔جس کی وجہ سے ان میں حلم اور صبر پیدا ہوتا ہے۔اور پھر بعض اوقات چرواہوں کو کئی قسم کے خطرات و مشکلات اور ناگہانی آفات سے بھی واسطہ پڑتا ہے ان نامساعد و پُر خطر حالات میں چرواہے اپنے جانوروں کی حفاظت کرتے ہیں اور انکو خطرات کی جگہوں سے دور رکھتے ہیں اور ممنوعہ علاقوں میں جانے سے بھی روک رکھتے ہیں۔اس طرح چرواہوں میں بہادری سے اپنی رعیت کی نگہبانی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔نبی بھی اپنی قوم کا رائی ہوتا ہے اس لئے نبی میں ان صلاحیتوں کا پایا جانا از بس ضروری ہے۔جس طرح چرواہا اپنی رعیت سے اور اسکی رعیت اس سے مانوس ہوتی ہے اسی طرح نبی اور اسکی رعیت بھی ایک دوسرے سے رشتہ انسیت میں بندھ جاتے ہیں۔پس یہ خصائص پیدا کرنے کے لئے ہر نبی کی طرح بلکہ اُن سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان حالات میں سے گزارا اور آپ کی ربوبیت فرمائی۔آپ نے ایک جگہ اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔یادر ہے کہ اوی کا لفظ جو اسی وحی الہی میں ہے یعنی یہ فقره که انه أوى القرية اس لفظ کے عربی میں یہ معنی ہیں کہ ایک حد تک مصیبت دکھلا کر پھر اپنی پناہ میں لے لینا بکلی برباد نہ کرنا یہ محاورہ قرآن شریف اور تمام عرب زبان میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی الم کو فرماتا ہے اَلَم يَجِدكَ يَتِيمًا فاوی یعنی کیا خدا نے تجھ کو یتیم پاکر پھر پناہ نہ دی ظاہر ہے کہ خدا تعالی نے اول آپ ہی آنحضرت علی کو یتیم کیا اور یتیمی کے تمام مصائب آنحضرت ملا م پر وارد کئے اور پھر بعد مصائب کے پناہ دی“ 58 (مکتوبات احمد، جلد 6 صفحہ 152)