سیرة النبی ﷺ — Page 56
حضرت حمزۃ اور حضرت عبد اللہ بن حجش کی بھی رضاعت کی تھی۔ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی۔(11) حضرت نبی اکرم صلی الم سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ میں نے آپ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں پایا آپ نے فرمایا کیسے نہیں ہوں گا میں قبیلہ کے لحاظ سے قریشی ہوں اور بنی سعد میں میں نے دودھ پیا ہے (12) پس عربوں کا یہ دستور تھا کہ لوگ اپنے بچوں کو دوسرے قبیلہ کی دایا کے پاس چھوڑ آیا کرتے تھے تاکہ بچہ دیہات کی خالص فزا میں پروان چڑھے اور اس کی زبان فصیح ہو۔(13) بکریوں کی نگہبانی: بکریوں کی نگہبانی انبیاء کی سنت ہے اور ہمارے پیارے نبی نے بھی اپنے مقدس بچپن میں اس سنت پر عمل فرمایا۔آپ نے اس کا ذکر نہایت محبت کے رنگ میں فرمایا ہے اور اس پر مختلف پہلووں سے روشنی ڈالی ہے۔اس سلسلہ میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں اور بجز خدا کے کوئی متکفل نہ تھا“ پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465) آپ نے آنحضور صلی للی کم کی زندگی کے مختلف ادوار کا ذکر فرمایا ہے اور وہ دور مبارک جو الم يجدك يَتِيمًا فَأُوى کے تحت دور یتیمی کی مشکلات کا زمانہ ہے اس دور میں آنحضور ملیالی تم پر جو مصائب تھے ان کا ذکر فرمایا ہے۔اور یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ آپ ہر وقت خدا کی پناہ میں تھے۔اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ نہایت محبت بھرے الفاظ میں آنحضور صلی علیم کی زندگی کے اس دور کا ذکر فرمایا ہے۔اور جب کچھ سن تمیز پہنچا تو یتیم اور بے کس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہو تا اُن بیابان نشین لوگوں نے بکریاں چرانے کی خدمت اُس مخدوم العالمین کے سپرد کی اور اُس تنگی کے دنوں میں بجز ادنی قسم کے اناجوں یا بکریوں کے دُودھ کے اور کوئی غذا نہ تھی“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 حاشیہ صفحہ 112-113) 56