سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 49 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 49

مصداق اسم احمد : زندگی بخش جام احمد ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا۔وہ احمد ہے؛ چنانچہ حضرت مسیح نے اسی نام کی پیش گوئی کی تھی۔مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف: 7) یعنی میرے بعد ایک نبی آئے گا۔جس کی میں بشارت دیتا ہوں اور جس کا نام احمد ہو گا۔یہ بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو گا۔اس لفظ سے صاف پایا جاتا ہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ کوئی اسی کی تعریف کرتا ہے جس سے کچھ لیتا ہے اور جس قدر زیادہ لیتا ہے اسی قدر زیادہ تعریف کرتا ہے۔اگر کسی کو ایک روپیہ دیا جاوے تو وہ اسی قدر تعریف کرے گا اور جس کو ہزار روپیہ دیا جاوے وہ اسی انداز سے کرے گا۔غرض اس سے واضح طور پر پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے زیادہ خدا کا فضل پایا دراصل اس نام میں ایک پیش گوئی ہے کہ یہ بہت ہی بڑے فضلوں کا وارث اور مالک ہو گا“ اسم احمد و محمد سے مراد دو صفات: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 422-423) فرمایا ” آپ کے مبارک ناموں میں ایک سر یہ ہے کہ محمد اور احمد جو دو نام ہیں ان میں دو جدا جد اکمال ہیں۔محمد کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے۔جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا۔اور اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے۔کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔پس اس میں جلالی رنگ ہوناضروری ہے۔مگر احمد کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہے، کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔کیونکہ وہ اپنے محبوب اور معشوق کی تعریف کرتا رہتا ہے۔اس لئے جیسے محمد محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے اسی طرح احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے۔اس میں ایک ستر یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی۔ایک تو مکی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی جو مدنی زندگی ہے اور وہ برس کی ہے۔مکہ کی زندگی میں اسم احمد کی تجلی تھی۔اس وقت آپ 49