سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 48 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 48

معرفت کی باریک سے باریک باتوں اور اسرار سے پورا واقف بنا دینا اور نری تعلیم ہی نہیں بلکہ عامل بھی بنا دینا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔دنیا کے لئے اجتماع بھی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں ذاتی مفاد اور دنیوی لالچ کی ایک تحریک ہوتی ہے۔مگر کوئی یہ بتلائے کہ محض اللہ کے لئے پھر ایسے وقت میں کہ اس جلالی نام سے کل دنیانا واقف ہو اور پھر ایسی حالت میں اس کا اقرار کرنا کہ دنیا کی تمام مصیبتوں کو اپنے سر پر اٹھا لینا ہو۔کون کسی کے پاس آسکتا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلانے والے کی عظیم الشان قوت جذب کی نہ ہو کہ بے اختیار ہو ہو کر دل اس کی طرف بھیج آویں اور وہ تمام تکلیفیں اور بلائیں ان کے لئے محسوس اللذات اور مدرک الحلاوت ہو جاویں۔اب رسول اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہو گا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سے موسوم ہوتے اور اس دعویٰ کو جیسا کہ زبان سے کیا گیا تھا۔إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اپنے عمل سے بھی کر دکھاتے؛ چنانچہ وہ وقت آگیا کہ اِذا جَاءَ نَصْرُ الله وَالفتحُ وَرَايتَ النَّاسَ يَدخلُونَ فِي الله أفواجاً (النصر: 302) اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں دينِ آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارے کو دیکھ لیا کہ یدخلون في دِينِ اللهِ اَفوَاجاً۔جب تک اس کو پورا نہ کر لیا۔نہ تھکے نہ ماندے ہوئے۔مخالفوں کی مخالفتیں، اعداء کی سازشیں اور منصوبے، قتل کرنے کے مشورے، قوم کی تکلیفیں آپ کے حوصلہ اور ہمت کے سامنے سب بیچ اور بے کار تھیں۔اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو آپ کو اپنے کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا۔جب تک کہ آپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے تھے۔یہ بھی ایک ستر ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے جھوٹوں کی طرح نہیں آتے۔اسی طرح پر آپ کے صدق نبوت پر آپ کی زندگی سب سے بڑا نشان ہے۔کوئی ہے جو اس پر نظر کرے ؟ آپ کو دنیا میں ایسے وقت پر بھیجا کہ دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اس وقت تک زندہ رکھا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ: 4) کی آواز آپ کو نہ آگئی اور فوجوں کی فوجیں اسلام میں داخل ہوئیں آپ نے نہ دیکھ لیں۔غرض اس قسم کی بہت سی وجوہ ہیں، جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 421-422) 48