سیرة النبی ﷺ — Page 47
کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا۔ورنہ وہ کیا بات تھی کہ جو آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:57) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلایا، صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔عادت اللہ اسی طرح پر ہے۔زمانہ ترقی کرتا ہے۔آخر وہ زمانہ آگیا جو خاتم النبین کا زمانہ تھا جو ایک ہی شخص تھا۔جس نے یہ کہا : قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (7:159) کہنے کو تو یہ چند الفاظ ہیں۔اور ایک اندھا کہہ سکتا ہے کہ معمولی بات ہے مگر جو دل رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے اور جو کان رکھتا ہے وہ سنتا ہے۔جو آنکھیں رکھتا ہے وہ دیکھتا ہے۔کہ یہ الفاظ معمولی الفاظ نہیں ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ معمولی لفظ تھے ، تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح کو یا کسی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔اصل یہی ہے کہ جس کو یہ قوت یہ منصب نہیں ملاوہ کیونکر کہہ سکتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کو یہ شوکت یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریم کو ملا۔بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ، تو وہ گوشت کھانے سے شیر نہ بن سکے گی۔شیر کا بچہ ہی شیر ہو گا۔پس یاد رکھو کہ یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اور واقعی حقدار ایک تھا۔جو محمد کہلایا۔یہ داد الہی ہے۔جس کے دل و دماغ میں چاہے۔یہ قوتیں رکھ دیتی ہے اور خداخوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقعہ کونسا ہے۔ہر ایک کا کام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کام نہیں نکل سکتا۔رسول اللہ میں وہ ساری قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جو محمد بنا دیتی ہیں تا کہ بالقوة باتیں بالفعل میں بھی آجاویں، اس لئے آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے۔تو کس قدر مشکلات پیش آتی ہیں۔ایک خدمت گار شریر ہو تو اس کا درست کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔آخر تنگ اور عاجز آکر اس کو بھی نکال دیتا ہے۔لیکن وہ کس قدر قابل تعریف ہو گا جو اسے درست کر لے اور پھر وہ تو بڑا ہی مرد میدان ہے جو اپنی قوم کو درست کر سکے ، حالانکہ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا۔سوچو تو سہی کس قدر کامل اور زبر دست قویٰ کا مالک ہو گا۔مختلف طبیعت کے لوگ، مختلف عمروں، مختلف ملکوں، مختلف خیال، مختلف قوی کی مخلوق کو ایک ہی تعلیم کے نیچے رکھنا اور پھر ان سب کی تربیت کر کے دکھا دینا اور وہ تربیت بھی کوئی جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت، خداشناسی اور 47