سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 37 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 37

اس عورت نے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ اتنے اونٹ پیش کرتی ہے جتنے انکی نذر پر قربان ہوئے تھے۔(34) گویاوہ ایک امیر اور صاحب اختیار عورت تھی لیکن عبد اللہ نے اس کی اس دعوت کو ٹھکرا دیا۔یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ عبد اللہ فطر تأنیک اور پاکدامن تھے اور ایسی نیکی اور پاکد امنی مشرکوں کو کہاں نصیب ہوتی ہے۔والد ماجد عبد اللہ کی وفات: والد ماجد عبد اللہ کی وفات کے بارہ میں مشہور روایات یہی ہیں کہ انکی وفات حضرت رسول کریم صلی ال نیم کی ولادت سے چند ماہ پہلے ہوئی تھی گویا آپ صلی علی یم یتیم پیدا ہوئے۔لیکن دوسری طرف یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ والد ماجد عبد اللہ کی وفات آپ میلی لی نام کی ولادت کے چند ماہ بعد ہوئی۔اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے: تاریخ کو دیکھو۔کہ آنحضرت صلی اللہ ہم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔اور ماں چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا۔بغیر کسی سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا“ پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465) الله ثمانية وعشرون شهرا۔جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ دونوں قسم کی روایات موجود ہیں ذیل میں چند مثالیں ان روایات کی دی جاتی ہیں۔ابن سعد کی روایت ہے توفّی عبداللہ بن عبدالمطلب بعد ما اتى على رسول یعنی عبد اللہ بن عبد المطلب کی وفات اس وقت ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی علی کریم کی عمر اٹھائیس ماہ تھی۔(35) محمد ابن جریر نے بیان کیا ہے کہ توفی عبداللہ ابو رَسُول الله بعد ما اتى على رسُول الله ثمانية وعشرون شهرًا۔یعنی عبد اللہ ابور سول اللہ کی وفات اسوقت ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی علی یم کی عمر اٹھائیس ماہ تھی (36) اسی طرح ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ کی وفات اسوقت ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی للی کم کی عمر دوماہ تھی۔(37) اگر چہ عام مورخین نے پیدائش سے پہلے والی روایات کو زیادہ بیان کیا ہے لیکن معیار کے لحاظ سے دونوں قسم کی روایات بر ابر ہیں۔اور جتنی بھی مستند کتب تاریخ نہیں ان میں یہ دونوں قسم کی روایات برابر مذکور ہیں۔37