سیرة النبی ﷺ — Page 36
دادا عبد المطلب: آپ صلی علی یلم کے دادا عبد المطلب کے ساتھ خدا تعالیٰ کا جو سلوک تھا وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مشرک نہ تھے۔زم زم کی تلاش ایک کشف کے نتیجہ میں ہوئی (32) نیز ابرہہ الاشرم کی تباہی کا واقعہ جو سورت الفیل میں مذکور ہے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عبد المطلب ہر گز مشرک نہ تھے بلکہ توحید پر قائم تھے۔والد ماجد عبد الله : آنحضور صلی ال نیم کے والد ماجد عبد اللہ کے متعلق بھی کتب تاریخ میں بڑی تفصیلات ملتی ہیں۔حضور نے آپ کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی الله وسلم کے والد ماجد عبد اللہ مشرک نہ تھے “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 23) کتب تاریخ وسیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد اللہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ایک نہایت شفقت کا سلوک تھا۔مثلا عبد المطلب نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ انکو دس بیٹے عطا فرمائے گا تو ایک بیٹا اللہ کی خاطر ذبح کریں گے۔چنانچہ جب دس بیٹے ہو گئے تو قرعہ ڈالا گیا جو عبد اللہ کے نام کا نکلا۔جو سب سے چھوٹے اور پیارے تھے۔اور عبد اللہ بھی اس قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔لیکن دوسرے رشتہ داروں، اور ننہال کی طرف سے شدید اصرار پر اونٹوں کے مقابل قرعہ ڈالا گیا۔اسطرح پہلے دس پھر میں پھر پچاس اور ساٹھ اونٹوں کا قرعہ ڈالا گیا، ہر دفعہ قرعہ عبد اللہ کے نام کا نکلا۔آخر جب ۱۰۰ اونٹوں کے برابر قرعہ ڈالا گیا تو اونٹوں کے نام کا نکلا اس طرح عبد اللہ کے بدلہ سو اونٹ ذبح کئے گئے۔(33) انسان کی قربانی کا رواج دنیا کے باقی حصوں کی طرح عرب میں بھی تھا شاید اسماعیل کی قربانی کی یاد میں تھا۔لیکن اس قربانی میں فرق یہ تھا کہ بتوں یا دیوی دیوتاؤں کی بجائے یہ نذر محض خدا تعالیٰ کی خاطر مانی گئی تھی۔عبد اللہ کا اس طرح سنت اسماعیلی" پر عمل کرتے ہوئے قربانی کے لئے تیار ہو جانا اور پھر تقدیر الہی سے بچائے جانا اس بات کی علامت تھا کہ ان سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص سلوک تھا۔ایساسلوک اور ایسی توجہ خداوندی تقاضا کرتی ہے کہ وہ شرک کی ناپاکی سے بچائے جاتے۔پھر عبد اللہ کی پاکدامنی کے واقعات بھی کتب سیرت و تاریخ میں مذکور ہیں۔جیسے بیان کیا جاتا ہے کہ عبد اللہ پر ایک عورت فریفتہ تھی، وہ انکے چہرے پر نور الہی دیکھتی تھی اس نے عبد اللہ کو اپنی طرف بلایا لیکن عبد اللہ نے سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے قبول نہ کیا۔36