سیرة النبی ﷺ — Page 35
کے بد نمونہ کو دیکھ کر اور انکی چال چلن کی بد تاثیر سے متاثر ہو کر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بد چلنیوں میں مبتلا ہو گئے تھے “ ( نور القرآن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 341 حاشیہ) چونکہ آنحضرت ملا لیا اور آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق کبھی کسی کافر کو ایسا وہم و گمان بھی نہ ہوا تھا بلکہ سب کے نزدیک آپ اپنی ولادت کی رُو سے طیب اور طاہر تھے اور آپ کی والدہ عفیفہ اور پاک دامن تھیں اس لئے آپ کی نسبت یا آپ کی والدہ ماجدہ کی نسبت ایسے الفاظ بیان کرنے ضروری نہ تھے کہ وہ مش شیطان سے پاک ہیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 5 صفحہ 343) اور پھر الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ (الشعراء: 218، 220) کی تشریح میں آپ صلی علیہ نیم کے مقدس و مطہر نسب اور علو خاندان ہونا ثابت کیا ہے۔اسی طرح اس مضمون کو دوسرے مفسرین نے بھی بیان کیا ہے۔یہاں یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم عرب کی تاریخ پڑھتے ہیں تو مجموعی طور پر تمام عرب اور حتی کہ نسل اسماعیل کے مولد و مسکن مکہ اور اسکے باسی قریش بھی اسی شرک میں مبتلا نظر آتے ہیں پھر آپ کے خاندان کا شرک سے محفوظ رہنا کیسے ممکن ہوا۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آنحضرت علی کیم کے سلسلہ اجداد سے مراد تمام قریش نہیں بلکہ وہ خاص لڑی ہے جسکا ذکر وَتَقَلُّبَكَ في السَّاجِدِينَ میں ہوا ہے۔جس میں آپ میلی لیے کم کا مقدس تخم پشت در پشت منتقل ہو تا رہا۔اس سلسلہ میں آپ صلی للہ کر کے چھاؤں کا ہوناضروری نہیں۔اسی طرح آپ صلی للی ریم کے سلسلہ آباء میں اگر کوئی عم (چا) مشرک بھی ہو تو اس سے آپ مصلی علی ایم کے خاص سلسلہ آباء کی پاکیزگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔مثلا آذر بھی عم ابراہیم تھا حالانکہ قرآن میں ابراہیم کا باپ (آب ) کہا گیا ہے اور اسکا مشرک ہونا بھی قرآن سے ثابت ہے۔لہذا سلسلہ آباء واجداد سے یہاں مراد بالخصوص ایک معین لڑکی ہے جسے خدا نے اپنے خاص فضل سے تمام نجاستوں سے محفوظ رکھا۔جب ہم آنحضور ملیالم کے نسب نامہ کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اس خاندان میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو شرک اور دوسری بلاؤں اور نجاستوں سے بچائے گئے تھے۔حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے قرب کے زمانہ میں تو لازماً اس خاندان میں توحید خالص پر قائم افراد بکثرت موجود ہوں گے۔لیکن جب رفتہ رفتہ عرب میں شرک عام ہو تا گیا (جسکے اصل محرک عیسائی تھے ) اور جاہلیت عروج پر پہنچ گئی حتی کہ مکہ بھی بتوں کا تیر تھے بن گیا اس دور میں بھی اس خاندان میں توحید پرست بلکہ الہام کا درجہ پانے والے افراد موجود نظر آتے ہیں۔35