سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 27 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 27

نے کافی تحقیق کی ہے جس سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فاران سے مراد حجاز کی سر زمین ہے۔نیز بائیبل سے یہ ثابت ہے کہ قیدار کی نسل عرب میں آباد ہوئی تھی اور قیدار مسلمہ طور پر نسل اسماعیل سے تھا۔(24) الغرض کہ آنحضور صلی ایم کا نسل اسماعیل سے ہونا ایسا ثابت شدہ امر ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔اس مضمون کے متعلق درج ذیل کتب میں نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔مکہ کی آبادی و سکونت حجاز : (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔صفحہ 65 تا 73) ( فصل الخطاب از حضرت حکیم نورالدین صاحب، خلیفہ المسیح الاول صفحہ 273 تا 283) ( الخطبات الاحمدیہ فی العرب والسیرت المحمدیہ مصنفہ سرسید احمد خان صاحب۔خطبہ نمبر 8) ان صفحات میں حضور کی تحریرات و فرمودات کی روشنی میں مکہ شہر کی آبادی کی عظیم الشان غرض و غایت، دعاء ابراہیمی کی قبولیت، ذبح عظیم کی برکات، اور سیدہ ہاجرہ کے بلند مر تبہ کا ذکر ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”دیکھو حضرت ابراہیم کا ابتلاء کہ بچے اور اس کی ماں کو کنعان سے بہت دور لے جانے کا حکم ہوا اور وہ ایسی جگہ تھی جہاں نہ دانہ تھا اور پانی۔وہاں پہنچ کر حضرت ابراہیم نے خدا کے حضور عرض کی کہ اے اللہ میں اپنی ذریت کو ایسی جگہ چھوڑتا ہوں جہاں دانہ پانی نہیں ہے۔حضرت سارہ کا ارادہ یہ تھا کہ کسی طرح سے اسماعیل مر جائے، اس لئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اسے کسی بے آب و گیاہ جگہ میں چھوڑ آ۔حضرت ابراہیم کو یہ بات بری معلوم ہوئی، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ سارہ کہتی ہے ، وہی کرنا ہو گا۔اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کو سارہ کا پاس تھا۔حضرت سارہ نے اس واقعہ سے پہلے بھی ایک دفعہ حضرت ہاجرہ کو گھر سے نکالا تھا۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کا فرشتہ اس سے ہم کلام ہوا تھا۔کیونکہ نبیوں کے سوا غیر انبیاء سے بھی اللہ تعالیٰ بذریعہ فرشتہ کلام کیا کرتا ہے؛ چنانچہ حضرت ہاجرہ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا مکالمہ ہوا۔غرض حضرت ابراہیم نے ویسا ہی کیا اور کچھ تھوڑا سا پانی اور تھوڑی سے کھجوریں ہمراہ لے کر حضرت ہاجرہ اور اس کے بچے کو لے جاکر وہاں چھوڑ آئے جہاں اب مکہ آباد ہے۔چند دن کے بعد نہ دانہ رہانہ پانی۔حضرت اسماعیل شدت پیاس سے بے چین ہونے لگے ، تو اس وقت حضرت ہاجرہ نے نہ چاہا کہ اپنے بچے کی ایسی بے بسی کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھے۔اس 27