سیرة النبی ﷺ — Page 26
قریش کا نسل اسماعیل سے ہونا متعدد روایات میں مذکور ہے۔(20) عربوں کی تاریخ کا ایک اور نہایت اہم ماخذ ابتدائی مورخین کی کتب ہیں جن میں عربوں کی اپنی قدیم روایات بیان کی گئی ہیں اور ان کو نظر انداز کر کے عرب کی تاریخ کا مطالعہ ممکن نہیں۔ان تمام کتب سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ قریش نسل اسماعیل سے ہیں مثلاً سیرت النبی لابن ہشام میں روایت ہے کہ قَالَ ابنُ هِشَامُ فَالْعَرِبُ كُلَّهَا مِنْ وُلِدِ إِسْمَاعِيلَ وَ قَحْطَانَ وَبَعضُ أَهْلِ الْيَمَن يَقُولُ قَحْطَانَ مِنْ وُلدِ إِسْمَاعِيلَ وَيَقُول إِسْمَاعِيلَ، ابُوا لَّعَرَبِ كلها (21) طبقات ابن سعد میں آنحضور صلی للی نیم کے الفاظ میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے (22) بائبل سے بھی ثابت ہے کہ حضرت سارہ کی نارضگی کی وجہ سے حضرت اسماعیل اور ہاجرہ وطن سے بے وطن ہوئے تھے۔اور دنیا میں صرف عرب ہی اپنے آپ کو انکی اولاد قرار دیتے ہیں اگر وہ بھی نہیں تھے تو سوال یہ ہے کہ پھر حضرت اسماعیل اور ہاجرہ وطن سے بے وطن ہو کر کہاں گئے۔مناسب ہے کہ یہاں بائیبل کی وہ عبارت تحریر کر دی جائے جس میں یہ قصہ بیان ہوا ہے۔” دوسرے دن صبح سویرے ہی ابراہام نے کچھ کھانا اور پانی کی مشک لیکر ہاجرہ کے کندھے پر رکھ دی۔اور اسے اسکے لڑکے کے ساتھ وہاں سے رُخصت کر دیا اور وہ چلی گئی اور بئر سبع کے بیابان میں آوارہ پھرنے لگی۔جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو اس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے سایہ میں چھوڑ دیا اور خود وہاں سے تقریباً سو گز کے فاصلہ پر دور جا کر اسکے سامنے بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ میں اس بچے کو مرتے ہوئے کیسے دیکھوں گی؟ اور وہ وہاں نزدیک بیٹھی ہوئی زار زار رونے لگی۔خدا نے لڑکے کے رونے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اس سے کہا اے ہاجرہ، تجھے کیا ہوا؟ خوف نہ کر خدا نے اس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اسکی آواز سن لی ہے لڑکے کو اٹھالے اور اس کا ہاتھ تھام کیونکہ میں اس سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔تب خدا نے ہاجرہ کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا۔چنانچہ وہ گئی اور مشک بھر کے لے آئی اور لڑکے کو پانی پلایا وہ لڑکا بڑا ہو تا گیا اور خدا اس کے ساتھ تھا۔وہ بیابان میں رہتا تھا اور تیر انداز بن گیا۔جب وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا تو اسکی ماں نے مصر کی ایک لڑکی سے اسکی شادی کر دی“ پرانا عہد نامہ۔پیدائش باب 21۔آیت 14 تا 21) بائیبل کے اس حصہ میں جس بئر سبع کا ذکر ہے اسکے متعلق سر سید احمد خان صاحب نے ایک مفید تحقیق کی ہے جو انکی کتاب ”خطبات احمدیہ میں موجود ہے۔(23) جہاں تک فاران کا تعلق ہے اسلامی مورخین اور جغرافیہ دانوں 26