سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 17 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 17

عیسائیوں میں سے صرف ایک اخطل ہی ہے جو پرانے عیسائیوں کے چال چلن کا نمونہ بطور یاد گار چھوڑ گیا۔اور نہ صرف اپنا ہی نمونہ بلکہ اس نے گواہی دے دی کہ اس وقت کے تمام عیسائیوں کا یہی حال تھا اور در حقیقت وہی چال چلن بطور سلسلہ تعامل کے اب تک یورپ میں چلا آتا ہے عیسائی مذہب کا پایہ تخت ملک کنعان تھا اور یورپ میں اسی ملک سے یہ مذہب پہنچا اور ساتھ ہی ان تمام خرابیوں کا تحفہ بھی ملا۔غرض اخطل کا دیوان نہایت قدر کے لائق ہے جس نے اس وقت کے عیسائی چال چلن کا تمام پردہ کھول دیا اور تاریخ پتہ نہیں دے سکتی کہ اس زمانہ کے عیسائیوں میں سے کوئی اور بھی ایسا ہے جس کی کوئی تالیف عیسائیوں کے ہاتھ میں ہو۔ہمیں اخطل کی سوانح پر نظر ڈالنے کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ وہ انجیل سے بھی خوب واقف تھا کیونکہ اس نے اس وقت کے تمام عیسائیوں اور پادریوں سے خصوصیت کے ساتھ وہ علمیت اور قابلیت دکھلائی کہ اس وقت کے عیسائیوں اور پادریوں میں سے کوئی بھی دکھلانہ سکا۔بہر حال ہمیں مانا ہی پڑا کہ وہ اس وقت کے عیسائیوں کا ایک منتخب نمونہ ہے۔مگر ابھی آپ سن چکے ہیں کہ وہ اس بات کا اپنے منہ سے اقراری ہے کہ میں خوبصورت عورتوں اور عمدہ شراب کے ساتھ پیرانہ سالی کے ملال کو دفع کرتا ہوں۔اور اس وقت کے شعراء کا بھی یہی محاورہ تھا کہ وہ اپنی بدکاریوں کو انہیں الفاظ سے ادا کرتے تھے اور وہ لوگ حال کے نادان شاعروں کی طرح صرف فرضی خیالات کی بندش نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی زندگی کے واقعات کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیتے تھے اسی وجہ سے ان کے دیوان محققوں کی نظر میں نکمے نہیں سمجھے گئے۔بلکہ تاریخی کتب کا ان کو پورا مر تبہ دیا گیا ہے اور وہ پرانے زمانہ کے رسوم اور عادات اور جذبات اور خیالات کو کامل طور پر ظاہر کرتے ہیں اسی واسطے اہل اسلام نے جو علم دوست ہیں ان کے قصائد اور دیوانوں کو ضائع نہیں کیا تا کہ ہر زمانہ کے لوگ بچشم خود معلوم کر سکیں کہ اسلام سے پہلے عرب کا کیا حال تھا اور پھر اسلام کے بعد قادر خدا نے کس تقویٰ اور طہارت سے ان کو رنگین کر دیا“ ( نور القرآن ا۔روحانی خزائن۔جلد 9- حاشیہ صفحہ 341 تا 346) مندرجہ بالا ارشادات میں حضور نے تاریخی حقائق کی بنا پر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اسلام کے ظہور سے قبل عیسائی برائیوں میں تمام اقوام سے آگے بڑھے ہوئے تھے بلکہ تمام دنیا میں برائیوں کی اشاعت کرنے والے بھی عیسائی ہی تھے اسکی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ وہ عیسائیوں کی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا اور ہر قسم کی برائی تک انکی رسائی ممکن تھی۔جبکہ باقی اقوام کو لغویات میں مبتلا ہونے کی ایسی کھلی مہلت نہ تھی۔جیسا کہ پادری 17