سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 10 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 10

رب العالمین کسی قسم کا تصرف اور دخل اس کل کے چلنے میں نہیں رکھتا۔اور نہ اس کو اختیار ہے کہ اپنی مرضی کے موافق اور اپنی خوشنودی ناخوشنودی کے رو سے اپنی ربوبیت کو بہ تفاوت مراتب ظاہر کرے یا اپنے ارادہ خاص سے کسی طور کا تغیر اور تبدل کرے بلکہ یہودی لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اور اس کا ایک جز سمجھتے ہیں۔اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں اور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے۔اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے خدائے تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پیدائش کے ۳۲ باب میں لکھا ہے کہ خدائے تعالیٰ یعقوب سے تمام رات صبح یک کشتی لڑا گیا۔اور اس پر غالب نہ ہوا اسی طرح بر خلاف اس اصول کے کہ خدائے تعالیٰ ہر یک مافی العالم کا رب ہے۔بعض مردوں کو انہوں نے خدا کے بیٹے قرار دے رکھا ہے۔اور کسی جگہ عورتوں کو خدا کی بیٹیاں لکھا گیا ہے اور کسی جگہ بیل میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم سب خدا ہی ہو۔اور سچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیموں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے معلوم کیا کہ بائیبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ آؤ ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بنا کر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے۔غرض حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کی یہ حالت تھی کہ مخلوق پرستی بدرجہ غایت ان پر غالب آگئی تھی اور عقائد حقہ سے بہت دور جاپڑی تھی یہاں تک کہ بعض ان کے ہندوؤں کی طرح تناسخ کے بھی قائل تھے اور بعض جزا سزا کے قطعا منکر تھے۔اور بعض مجازات کو صرف دنیا میں محصور سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل نہ تھے۔اور بعض یونانیوں کے نقش قدم پر چل کر مادہ اور روحوں کو قدیم اور غیر مخلوق خیال کرتے تھے۔اور بعض دہریوں کی طرح روح کو فانی سمجھتے تھے اور بعض کا فلسفیوں کی طرح یہ مذہب تھا کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین اور مدبر بالا رادہ نہیں ہے۔غرض مجزوم کے بدن کی طرح تمام خیالات ان کے فاسد ہو گئے تھے اور خدائے تعالیٰ کی صفات کاملہ ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالک یوم الدین ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے نہ ان صفتوں کو اس کی ذات سے مخصوص سمجھتے تھے اور نہ ان صفتوں کا کامل طور پر خدائے تعالیٰ میں پایا جانا یقین رکھتے تھے بلکہ بہت سی 10