سیرة النبی ﷺ — Page 6
انسانیت کا ان میں باقی نہیں رہا تھا اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے۔ایک ایک شخص صدہا بیویاں کر لیتا تھا۔حرام کا کھانا ان کے نزدیک ایک شکار تھا۔ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے تھے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُم یعنی آج مائیں تمہاری تم پر حرام ہو گئیں۔ایسا ہی وہ مردار کھاتے تھے۔آدم خور بھی تھے۔دنیا کا کوئی بھی گناہ نہیں جو نہیں کرتے تھے۔اکثر معاد کے منکر تھے۔بہت سے ان میں سے خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے۔لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیتے تھے۔یتیموں کو ہلاک کر کے ان کا مال کھاتے تھے۔بظاہر تو انسان تھے مگر عقلیں مسلوب تھیں۔نہ حیا تھی نہ شرم تھی نہ غیرت تھی۔شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔جس کا زنا کاری میں اول نمبر ہو تا تھا۔وہی قوم کا رئیس کہلاتا تھا۔بے علمی اس قدر تھی کہ ارد گرد کی تمام قوموں نے ان کا نام اُمی رکھ دیا تھا۔ایسے وقت میں اور ایسی قوموں کی اصلاح کیلئے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر مکہ میں ظہور فرما ہوئے۔پس وہ تین قسم کی اصلاحیں جن کا ذکر ہم ابھی کر چکے ہیں۔ان کا در حقیقت یہی زمانہ تھا“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 328-329) حضور کے مندرجہ بالا ارشادات میں سے ظاہر ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے عرب سمیت تمام دنیا شرک ، بد اخلاقی اور بد رسومات اور ظالمانہ طریق پر قائم ہو چکی تھی۔اسکے متعلق بہت سے ثبوت موجود ہیں۔مثلاً عرب ہی میں شرک کی یہ حالت تھی کہ ہر قبیلہ ہر خاندان کا بلکہ ہر شخص کا اپنا بت تھا۔عرب کے بعض بت بہت مشہور تھے جنکے نام کی عرب قسمیں کھاتے تھے ، اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔کتب تاریخ میں عرب کے مشہور بتوں کے نام بھی درج ہیں۔نام بت پجاری قبائل لات طائف ثقیف، ہوازن عرابی منات مد پینه مکه قریش، کنانه اوس، خزرج ور دومة الجندل كلب شواع مدینہ ہذیل 6